خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 458
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۸ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء کے حضور گڑ گڑا کر عاجزانہ دعائیں کرنے کا موقع مل جائے گا کہ روزے کے اندر دعا بھی شامل ہے۔روزہ حقیقتاً ہے ہی دُعا۔اور پھر تلاوت قرآن کریم ہے۔میں نے کہا ہے کہ روزے کی شرائط اختیار کی جائیں۔روزے میں صدقات کی طرف توجہ کرنا بھی شامل ہے اور بہت سی شرائط ہیں۔ان تمام شرائط کے ساتھ ایک روزہ آدمی رکھے۔عام طور پر بھوکے کا خیال رکھے۔ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کی طرف توجہ ہو۔وہ دن ایسا ہو جس میں اگر روزانہ ایک شخص مثلاً ایک رُبع کی تلاوت کرتا ہے تو اُس دن ایک سپارہ کی کرے ایک سپارہ کی تلاوت کرنے والا اُس دن دو تین سپاروں کی تلاوت کرے۔اور اگر اس طرح کیا جائے اس نیت کے ساتھ کہ اس منصوبہ میں خدا سے ہم نے برکت حاصل کرنے کے لئے ایک عاجزانہ سعی اور جہاد کرنا ہے۔قرآنِ کریم کے بھی لاکھوں دور ہو جائیں گے۔پس فی ماہ ایک روزہ مہینہ کے آخری ہفتہ میں کسی دن جس کا فیصلہ شہر یا محلہ یا قصبہ یا گاؤں کرے۔(وہ دعاؤں کا دن ہے جس طرح رمضان کے آخر میں ہماری اجتماعی دعا ہوتی ہے) جس دن جو علاقہ مہینے کے آخری ہفتہ میں روزے کے لئے مقرر کرے اُس دن عصر کے بعد یا مغرب کے بعد جو بھی اُن کے لئے سہولت ہو وہ اپنے علاقے کی ، اپنے حلقے کی ، اپنے گاؤں کی ، اپنے قصبے کی ، اپنے محلے کی اجتماعی دعا کا بھی انتظام کریں۔اور اپنی زبان میں جو ہم نے دُعائیں کرنی ہیں ( علاوہ ان دعاؤں کے جن کا میں ابھی ذکر کروں گا ) خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اُس سے مانگیں۔اپنی عاجزی کے پورے احساس کے ساتھ کہ اے خدا! اتنا بڑا بوجھ تو نے ہم پہ ڈالا اور اتنے کمزور ہم انسان ہیں اور بشری کمزوریاں بھی ساتھ لگی ہوئی ہیں اور علمی کمزوریاں بھی ہیں۔جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی کمزور یاں ہوتی ہیں۔پوری طاقت تو شاید لاکھ میں سے ایک بھی آدمی ایسا ہو گا جس کو سو فیصد جو اُس کی صحت کا معیار ہونا چاہیے اپنی اندرونی طاقتوں کے لحاظ سے وہ اُسے حاصل ہو۔کبھی ہوا چلتی ہے تو نزلہ ہو جاتا ہے۔کبھی ٹھنڈ لگ جاتی ہے۔کبھی گرمی پڑتی ہے تو ہیٹ سٹروک (Heat Strock) ہو جاتا ہے۔موسم بدلتے ہیں تو ہمیں فائدہ بھی پہنچاتے ہیں۔موسم بدلتے ہیں تو ہمیں دوسرے اسباق بھی دیتے ہیں۔خدا کے حضور جھکیں اور خدا سے کہیں کہ اے ہمارے پیارے ربّ! تو نے ہمیں یہ کہا ہے کہ شیطان سے