خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 443
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۳ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء ہم نے چونکہ کام کی ابتدا ابھی سے کرنی ہے اور چونکہ ابتدائی کاموں کے لئے ہم پر بہت سے ابتدائی اخراجات پڑ جائیں گے۔اس لئے وہ ہمت کر کے شروع میں اپنے اپنے وعدہ کے سولہویں حصے کی بجائے جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں دے دیں یعنی وہ شرح کا خیال نہ رکھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس کو جتنی توفیق عطا فرمائی ہے اتنا ادا کر دے تاہم میں اُن کو یہ نہیں کہوں گا کہ وہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ایسا کریں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ تکلیف میں پڑے بغیر وہ پہلے سو سال میں یعنی ۲۸ فروری ۱۹۷۵ ء سے پہلے پہلے اپنے وعدہ کا جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں، وہ دے دیں تا کہ شروع میں جو ابتدائی کام کرنے ہیں وہ کئے جاسکیں کیونکہ ہم ان کاموں کو ۱/۱۶ کی نسبت سے تقسیم نہیں کر سکتے۔مثلاً میں نے کہا تھا کہ کئی جگہ ہمیں نئے مشن کھولنے پڑیں گے وہاں مسجدیں بنانی پڑیں گی۔مشن ہاؤسز بنانے پڑیں گے اور کئی اخراجات ہوں گے جو ابتدا میں اُٹھانے پڑیں گے اب مثلاً جہاں مشن ہاؤسز بننے ہیں وہاں ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم انہیں ۱۶ سال میں مکمل کریں گے اور ہر سال ان پر ۱/۱۶ حصہ خرچ کریں گے۔ان پر تو ہمیں جب بھی حالات اور ذرائع میسر آجائیں گے فوری طور پر خرچ کرنا پڑیگا مثلاً زمین مل جائے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے کی اجازت مل جائے تو وہاں فوراً مکان بنانے پڑیں گے۔آج کل غیر ممالک میں خصوصاً ( اور یہاں بھی عموماً لوگ ) جب زمین دیتے ہیں تو شرط لگاتے ہیں کہ اتنے عرصہ کے اندر مثلاً دوسال میں یا تین سال میں جس غرض کے لئے زمین دی گئی ہے اس کے لئے عمارت مکمل کرو۔غرض ابتدا میں بہر حال نسبت سے زائد خرچ ہوں گے اس لئے جماعت میں سے ایک گروہ ایسا نکلنا چاہیے جو مذکورہ نسبت سے زیادہ ادا ئیگی کرنے والا ہوتا کہ اشاعت اسلام کے کاموں میں کوئی روک پیدا نہ ہو مثلاً قرآن کریم کے تراجم کروانے ہیں ان کو شائع کرنا ہے قرآنِ کریم تو برکت سے معمور کتاب ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے ہماری روح کی تسکین کا ذریعہ بنایا ہے۔اس لئے جہاں تک قرآن کریم کے تراجم کا سوال ہے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم قرآن کریم کے ترجمے شائع تو کر سکتے ہوں مگر پھر بھی ۱۶ سال کا انتظار کریں۔جب بھی خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی ہم بہر حال ان کی اشاعت کریں گے تاکہ ان ممالک میں جہاں وہ زبان بولی جاتی ہے وہ علاقے