خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 444

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۴ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء اسلام کی روشنی سے منور ہوں۔یہی ہماری اصل غرض ہے جس کے لئے جماعت کو مالی قربانیوں میں حصہ لینے کی تحریک کی جاتی ہے۔پس چونکہ بنیادوں کو تو ہم نے بہر حال مضبوط کرنا ہے اس لئے ہم نے کام شروع کرنے میں انتظار نہیں کرنا۔اس لئے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے اپنا سارا وعدہ ادا کرنے کی وہ سارا دے دیں اور پھر آنے والے سالوں میں تھوڑی بہت جتنی بھی خدا تو فیق دے وہ دیتے چلے جائیں یا ۳/۱۶ یا ۴/۱۶ دے دیں۔مگر وہ اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں کیونکہ اس کی بھی ہمیں اجازت نہیں ہے۔بعض دفعہ اس طرح اس قسم کی تنگی پیدا ہو جاتی ہے جو انسان کے لئے ابتلا کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے وہ دوست جن کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے یا اچانک اُن کی آمد کا کوئی ذریعہ پیدا ہو گیا ہے وہ آگے بڑھیں اور خود کو تکلیف میں ڈالے بغیر نسبت کے لحاظ سے نہیں بلکہ جو ضرورت ہے اس عظیم منصوبہ کی اس کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سال جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہیں، دے دیں۔غرض اصولاً تو سوائے پہلے سوا سال کے جس میں ہر ایک کو اپنے وعدہ کا ۲/۱۶ حصہ ادا کرنا ہے، ہر سال ۱۷۱۶ کے حساب سے ادا ئیگی ہونی چاہیے۔بندھی ہوئی آمدنی والے دوستوں کے لئے سہولت اسی بات میں کہ وہ ہر ماہ اس نسبت سے ادا کر دیا کریں۔دیہاتوں میں رہنے والے دوست کو جن کی عام طور پر سال میں دو دفعہ برداشت ہوتی ہے اور آمد کا ذریعہ پیدا ہوتا ہے وہ ان دو موقعوں پر کم از کم ۱/۱۶ ہر سال دے دیا کریں مگر پہلے سوا سال میں ۲/۱۶ کے حساب سے ادا کریں۔تیسرے وہ دوست ہیں جن کی آمد کبھی بڑھ جاتی ہے اور کبھی کم ہو جاتی ہے مثلاً وکیل یا تاجر پیشہ لوگ ہیں یا صنعت کار ہیں جو ملک کی اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اگر اور جب اللہ تعالیٰ اُن کے رزق میں فراخی کے غیر معمولی سامان پیدا کر دے (میری دعا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا ہی کرے) تو وہ نسبت سے ادا ئیگی کا انتظار نہ کریں بلکہ تنگی میں پڑے بغیر جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں، دے دیں۔اس طرح ہمارے کام شروع ہی سے تیز سے تیز تر ہوتے چلے جائیں گے اور ہمارا یہ جو منصوبہ ہے جس کی کامیابیوں کی شکل اللہ تعالیٰ کی