خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 430
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۳۰ خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء کیا گیا اُس رنگ میں کوئی بھی سمجھدار انسان مذہب کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا کیونکہ مذہب کو ان ممالک نے ( میں لفظ مذہب میں اسلام کے علاوہ سب مذاہب کو شامل کر رہا ہوں ) اس رنگ میں پیش کیا کہ نہ انسان کے لئے وہ مقام شرف اور عزت کا باقی چھوڑا جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کا ایک بنیادی حق قرار دیا ہے نہ اس کی دیگر صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے جن مادی سامانوں کی ضرورت تھی اور جن سے وہ لوگ محروم تھے اُن کا حقدار سمجھا گیا۔اگر مذہب (نعوذ باللہ ) انسان کی تمام صلاحیتوں کی نشو و نما میں روک ہے تو انسان کا فرض ہے مذہب کو دھتکار دے اس رنگ میں اشتراکیوں نے اسے دھتکار دیا لیکن حقیقی مذہب تو ایسا نہیں ہے۔جو مذہب، جو ابدی صداقت، جو حسین شریعت ، جو احسانِ عظیم کی مالک ہدایت اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی شکل میں دی وہ تو اس کے برعکس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان کی اُن تمام صلاحیتیوں کی جو اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں کامل نشو ونما کے سامان پیدا ہونے چاہئیں اور جب ہم دہریت، اشتراکیت ،سوشلسٹ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ انسان کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں ان کا تصور بھی اشتراکیت اور اس قسم کے دوسرے از مز میں نہیں پایا جاتا۔اس وقت اُن ترقی یافتہ ممالک میں جو اشتراکیت کے خلاف برسر پیکار ہیں سرمایہ دارانہ نظام تو معرض زوال میں ہے اور مذہب میدان سے بھاگتا نظر آتا ہے۔اسی لئے میں نے جماعت کو پہلے بھی کہا کہ ان علاقوں میں ایک خلا پیدا ہورہا ہے۔اب اس خلا کو دو طاقتیں پر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ایک طاقت لامذہبیت اور دہریت کی ہے اور دوسری طاقت اسلام اور احمدیت کی ہے۔ہمارا اصل مقابلہ ان لا دینی طاقتوں سے ہے اور اس مقابلہ میں ایک شدت پیدا ہو رہی ہے۔وہ بھی ان علاقوں کے انسانوں کا دل خدا سے دور لے جانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور جماعت احمد یہ بھی اُن علاقوں میں بسنے والے انسانوں کے دل خدائے واحد و یگانہ کے لئے جیتنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔جہاں تک مادی وسائل کا سوال ہے غیر مذاہب اور خدا کے اس دشمن کے مقابلہ میں ہماری کوئی طاقت ہی نہیں ہے۔مادی وسائل اُن کے مقابلہ میں ہمارے پاس ہزارواں کیا لا کھواں حصہ بھی نہیں لیکن ہم نے اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کے