خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 431
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۳۱ خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء اس فرمان کا مشاہدہ کیا ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور مغفرت کی چادر میں خود کو اس معنی میں ڈھانپتا ہے کہ وہ اس کے حضور جھکتا اور یہ دُعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ جو بشری کمزوریاں ہیں وہ سرزد نہ ہوں اور جو بشری صلاحیتیں ہیں ان کی کامل نشو و نما ہو جائے اور خدا کے علاوہ ہر شئے کو لاشئے محض سمجھتے ہوئے اُسی کی طرف رجوع کرتا ہے تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ بڑی سے بڑی ماڈی طاقتوں کو ملیا میٹ کر دیتا اور ہلاک کر دیتا ہے اور اپنے بندے کی مدد اور نصرت کے لئے آسمانوں سے سامان پیدا کرتا ہے۔ہماری زندگیوں میں بھی یہ بات ایک حقیقت کی صورت میں موجود ہے۔یہ کوئی فلسفہ نہیں بلکہ ہمارے وجود نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ تمام مادی سامان اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے حکم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے پس یہ تو درست ہے کہ اس روحانی جنگ میں، اس اخلاقی جنگ میں ،اس مذہبی جنگ میں مادی وسائل دہر یہ اقوام کے پاس ہم سے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے مقابلہ میں ہمارے ماڈی وسائل ذکر کے قابل بھی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے ہم اس سے انکار نہیں کرتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کمزور بندوں کی کوششوں میں اپنی زبر دست تدابیر کو چھپا کر دنیا میں اپنی قدرت کے ہاتھ کا ایک زبر دست جلوہ ظاہر کرے یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں تک ہماری طاقت ہے یا جہاں تک ان وسائل کا تعلق ہے۔جن سے ہم اپنی طاقت کو بڑھا سکتے ہیں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس طاقت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوں اور اس کوشش میں لگے رہیں کہ جو طاقت اور قوت کو بڑھانے کے وسائل اور راہیں ہیں وہ ہمیں میتر آئیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں جس کی میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کی ہے یہ حکم فرمایا ہے کہ اگر تم استغفار کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو تمہاری خوشحالی کے سامان آسمانوں سے پیدا کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اگر تمہاری زندگیاں اُس کی رضا کے حصول کے لئے لگی ہوئی ہوں گی تو تمہیں قوت کے بعد مزید قوت عطا کرتا چلا جائے گا۔اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا دشمن انسانیت اور دشمن روحانیت اور دشمن مذہب کے