خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 25
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء احمدی ہوئے اور اس طرح ان کی روحانی حیات شروع ہوئی۔پھر وہ خلافت سے بھی وابستہ رہے پھر ان کے والد حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ میں عمر میں اپنے چھوٹے بھائی اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں امام وقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق ملی۔حضرت مرزا عزیز احمد صاحب علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت داخل ہوئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا نور پھیلا رہے تھے۔یعنی اس وقت قریباً جوانی کی عمر ہو چکی تھی۔آپ نے لمبی عمر پائی مجھے ان کی صحیح عمر تو یاد نہیں وفات کے وقت کم و پیش ۸۲ سال کی عمر تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا لمبا عرصہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ بڑے بے نفس انسان تھے اور بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج انسان تھے اور بڑی دعائیں کرنے والے انسان تھے اور انسان سے بڑا پیار کرنے والے انسان تھے اور بچوں کی تربیت کا بڑا خیال رکھنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا صبر عطا کر رکھا تھا۔جب آپ کی پہلی بیوی وفات پاگئیں اور اُن کے بطن سے ان کے دونوں بیٹے بھی فوت ہو گئے تو ان کی وفات کے صدمے کو انہوں نے بڑے صبر سے برداشت کیا۔پھر جب حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کی بڑی صاحبزادی سے اُن کی شادی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس صبر کا اجر یہ عطا فر مایا کہ ان کی نسبتا بڑی عمر میں دو اور بیٹے عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کا یہ مزید پیار بھی حاصل ہوا کہ ان کے صبر اور اپنے لئے ان کی محبت کو دیکھ کر ان کے ہر دو بچوں کو اسلام کے لئے محبت رکھنے والے دل عطا فرمائے۔آپ کے دونوں بیٹے واقف زندگی ہیں اور بڑے اخلاص سے سلسلہ کے کام کرنے والے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ جس طرح کیلے کا پودا پھل دینے کے بعد ا پنی جڑوں سے دو چار مزید پودے نکالتا ہے اور اس لحاظ سے ہم اُسے مُردہ نہیں کہہ سکتے بلکہ اُس کا خاندان زندہ ہے اسی طرح حضرت مرزا عزیز احمد صاحب جسمانی لحاظ سے تو وفات پاگئے ہیں مگر وہ روحانی طور پر زندہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل کو روحانی طور پر زندہ کیا ان کو خدا کی راہ میں زندگی وقف کرنے کی توفیق عطا