خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 24
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء نازل کرتا اور حیات اُن سے چھین لیتا ہے جس سے تم یہ سمجھ لو کہ جس شخص یا جس قوم میں روحانی طور پر زندگی کا سلسلہ ختم ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے قہر کا مورد بن جاتی ہے اسی لئے جہاں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ تم خاتمہ بالخیر کی دعا کرو وہاں مخلص بندوں سے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم اپنی اولاد کے لئے دعا کیا کرو کہ تمہارے لئے تمہاری اولا د قرۃ العین بنے۔یعنی وہ تمہاری آنکھوں کی ٹھندک ثابت ہو۔ایک کروڑ پتی شخص جس کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ قرآن کریم کی اُسے سمجھ ہوتی ہے اُس کے لئے اس کی اولا دقرۃ العین یعنی آنکھوں کی ٹھنڈک اس وقت بنتی ہے جس وقت وہ تجارت میں یا زراعت میں یا چالا کیوں میں یا دوسروں کی دولت کے استحصال میں بڑی مہارت حاصل کرلے لیکن ایک دیندار شخص جس کا اپنے رب سے زندہ تعلق ہوتا ہے اس کی اولاد تو اس کے لئے قرة العین اس وقت بنتی ہے جس وقت وہ دیندار بنے یعنی خدا تعالیٰ سے روحانی زندگی پانے لگے اسی لئے اسلام نے تربیت اولا د پر بڑاز ورد یا ہے۔پس ہر شخص کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے اسے یہ بات ہمیشہ نظروں کے سامنے رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُسے جو روحانی زندگی عطا فرمائی ہے اس کا سلسلہ اس کی نسل میں بھی جاری رہے اور جو اس شخص کی اولاد ہے۔اس کے بچے ہیں ان کو بھی یہ یا درکھنا چاہیے کہ ان کے بزرگ باپ نے اپنی زندگی میں اُن کے لئے ایک مثال قائم کی ہے اس مثال کے مطابق انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ جو روحانی نعمتیں ان کے بزرگوں کو ملیں ( یہ روحانی نعمتیں ورثہ میں نہیں ملا کر تیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں عظیم اور مقبول مجاہدہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہیں ) وہ ان کے حصہ میں بھی آئیں تا کہ خاندان میں روحانی زندگی جاری وساری رہے۔آج جمعہ کے دن ( ویسے تو یہ پچھلی رات کا واقعہ ہے لیکن میں آج اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسلامی کیلنڈر کی رو سے ہمارا دن غروب شمس سے شروع ہوتا ہے اس لئے ہمارے کیلنڈر کے لحاظ سے آج جمعہ کی رات) قریباً دس بج کر ۲۵ منٹ پر ہمارے ایک بزرگ بھائی حضرت مرزا عزیز احمد صاحب وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے پوتے تھے۔اپنے والد سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حلقہ بیعت میں آئے اور