خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 405
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۷۳ء مشرق وسطی کا مسئلہ دنیا کے امن وسلامتی کے لئے ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے خطبه جمعه فرموده ۲۱ / دسمبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بعد اصلاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ - (الاعراف: ۵۷،۵۶) پھر حضور انور نے فرمایا:۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسان بین الاقوامی امن کے اصول سے بھی ناواقف تھا۔اس لئے کہ ایک تو انسان کی طرف قوم قوم اور ملک ملک کے حالات کے مطابق آسمانی وحی نازل ہورہی تھی اور دوسرے اس لئے بھی کہ اقوام عالم کا باہمی رابطہ ایسا نہ تھا کہ امن ہو تو عالمگیر ہو اور فساد ہو تو عالمگیر ہو۔گویا بعثت نبوی سے قبل نہ عالمگیر اصلاح کے لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی اور نہ عالمگیر فساد کے امکانات تھے بلکہ کئی علاقے تو ایسے بھی تھے جن کے مہذب کہلانے والی دنیا کو بر ہی نہ تھی چنانچہ جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی