خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 400
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۰ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء زائد چلی گئی تھی اور وہ بہر حال اگلے دن مہمانوں کو نہیں دی جاسکتی لیکن اس کو اکٹھا کریں۔گھر والے بھی اکٹھا کریں اور انتظام تک یہ ٹکڑے پہنچائیں اور پھر یہ ٹکڑے گواس قیمت پر تو نہیں سکتے جس قیمت پر آٹا خریدا جاتا ہے لیکن کچھ نہ کچھ پیسے تو واپس آ جاتے ہیں اور دنیا کو اب اس کی بھی ضرورت ہے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ضائع نہ کریں بلکہ اگر بک سکتی ہے تو بیچیں۔اگر سنبھالی جائے تو آئندہ کے لئے سنبھال لیں اور جماعت کا وہ حصہ جن کی آمد نیاں قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں زیادہ ہوگئی ہیں ان کو اپنے گھر کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے آمد وخرچ کا بھی جائزہ لینا چاہیے اور اپنی نسبت اور توازن کو جو انہوں نے لازمی اور دیگر مالی قربانیوں کا قائم کیا ہوا تھا اسے نیچے نہیں گرنے دینا چاہیے بلکہ کم از کم اسے ضرور قائم رکھیں تو تب بھی میرے نزدیک جماعت کی آمد میں تیس فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے یعنی ہمارے چندوں کی آمد تیس فیصد زیادہ ہو جائے گی۔وہ تو دور کی بات ہے نزدیک کا یہ ہے کہ اسی مہینہ میں جلسہ سالا نہ ہو رہا ہے اور میرے سامنے جو دوست بیٹھے ہیں ان کی بھاری اکثریت وہ ہے جس نے رضا کارانہ طور پر جلسہ سالانہ کا کام کرنا ہے۔آپ میرے پہلے مخاطب ہیں آپ کو میں کہتا ہوں کہ ٹوٹی ہوئی سوئی بھی اگر آپ کو نظر آئے تو اسے سنبھال لیں کیونکہ ٹوٹی ہوئی سوئیاں بھی اگر ایک سیر بن جائیں تو ان کے بھی پیسے مل جاتے ہیں اور اگر کہیں روٹی کا ایک لقمہ بھی آپ کو گرا پڑا نظر آئے تو اسے بھی سنبھال لیں اس نیت سے سنبھال لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ کو ایک لقمہ بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا گیا۔تب آپ کو بڑا ثواب ملے گا اور آپ کے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار اور محبت اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔خدا کرے کہ بے شمار محبت ہم سب کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدا ہو جائے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ / دسمبر ۱۹۷۳ ء صفحه ۲ تا ۶ )