خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 392
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۲ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء تھی۔میں ایک چیز ان پر ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے پیسے ملنے تھے۔پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیسے میں اتنی برکت ڈالی کہ آج تک خود مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی کہ ان پیسوں میں یہ کالج کیسے بن گیا اور باہر کسی سے بات کریں تو وہ مانتا ہی نہیں۔ایک مرتبہ ایک مرکزی وزیر آئے۔انہوں نے کہا یہ سارار بوہ جس کے متعلق تم کہتے ہو کہ جماعتِ احمدیہ نے اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر بنایا ہے یہ میں نہیں مانتا۔ضرور حکومت نے کئی کروڑ روپے کی امداد آپ لوگوں کو دی ہوگی۔خیر ان سے کہا گیا کہ یہ تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ وزیر ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک دھیلہ بھی ہمیں حکومت نے نہیں دیا نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے غیرت بھی دی ہے اور اخلاص اور برکت بھی دی ہے۔ہمیں مانگنے کی ضرورت نہیں۔ہمارے پاس جو بھی غریبانہ سامان ہوتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ اتنی برکت ڈالتا ہے کہ دوسروں کو حیرت ہوتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضیاع سے بچنے پر اتناز وردیا ہے کہ ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ کھانا کھاتے وقت اپنی رکابی میں اتنا ہی کھانا نکا لو جتنا کھا سکو۔ایک لقمہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔اس بنیادی حکم کا تعلق ہر شعبۂ زندگی سے ہے۔ہمارے جلسہ سالانہ کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔جلسہ کا نظام وسیع ہے اس میں بڑی وسعت ہے اور اس میں ہر قسم کی نگرانی ہے۔جلسہ کے نظام کی نوعیت یہ ہے کہ ضیاع سے بچنے کے لئے بہت بڑی جدو جہد اور بڑے پیمانہ پر نگرانی کی اور چوکس اور بیدار رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اجتماعی قیامگاہوں کے منتظمین کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کس وقت کے کھانے پر کتنے مہمان آئیں گے وہ اپنی طرف سے یہ سوچتا ہے کہ اس جگہ پچھلے سال اسی وقت پچاس مہمان آئے تھے۔اس مرتبہ ممکن ہے ساٹھ یا ستر آجائیں؟ وہ ساٹھ ستر کا کھانا منگواتا ہے۔وہ ستر کس کا کھانا اس نیت کے ساتھ منگواتا ہے کہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہولیکن وہاں ساٹھ مہمان پہنچتے ہیں۔اب دس کس کا کھانا اس کے پاس بیچ رہتا ہے۔تو کوئی ایسا انتظام نہیں کہ اس کھانے کو ضیاع سے بچایا جاسکے۔اس لئے اس ہنگامی صورت کے متعلق جلسہ کے