خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 393 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 393

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۳ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء منتظمین کو سوچنا چاہیے کہ مہمان کو تکلیف بھی نہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی پورا ہو جائے کہ اُمت محمدیہ کو ایک لقمہ بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا گیا۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ تمہیں خدا تعالیٰ بہت دے گا۔کیا قیصر اور کسریٰ کے خزانے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کے قدموں میں لا کر نہیں ڈالے گئے تھے؟ لیکن اس کے باوجود یہ حکم ہے کہ ایک لقمہ بھی کھانے کا ضائع نہ ہو اس کا خیال رکھیں۔آج مثلاً امریکہ بعض دفعہ اس بات پر فخر کرتا ہے اور ایسی باتیں شائع ہوئی ہیں کہ امریکہ اتنا کھانا ضائع کرتا ہے کہ ایک وقت کے کھانے کا ضیاع دنیا بھر کے لوگوں کا ایک وقت میں پیٹ بھر سکتا ہے۔یہ کوئی فخر کی بات ہے؟ یہ تو شرم کی بات ہے لیکن ہمیں اس بات پر فخر نہیں کرنا۔ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ہمیں ایک لقمہ بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا گیا۔ہمیشہ ہی اس طرف توجہ ہوتی ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش ہے اور اس لئے کہ آپ کا یہ حکم ہے کہ میری اُمت کا کوئی لقمہ بھی ضائع نہ ہو اور پھر اب وقت کی ضرورت بھی ایسی آپڑی ہے مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ میں حیران ہو گیا جب ایک کاغذ میرے سامنے یہ آیا کہ مہنگائی کی وجہ سے اس جلسہ سالانہ کے خرچ کے لئے ایک لاکھ بتیس ہزار روپیہ زائد منظور کیا جائے اور پھر صدرانجمن نے اس پر غور کیا اور اعداد و شمار دیکھے کہ کن کن شقوں میں خرچ زیادہ ہے۔گندم کی قیمت بڑھ گئی اور اگر چہ مصنوعی گھی کی پیداوارسو فیصد بڑھ گئی ہے لیکن اس کی قیمت بھی سو فیصد بڑھ گئی۔یہ تو الٹے کام ہورہے ہیں حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔میرے خیال میں آج بھی صبح کو ئی خبر تھی کہ بناسپتی گھی کی پیدا وار سو فیصد بڑھ گئی ہے لیکن چونکہ یہ گھی ملک سے باہر سمگل ہو نے لگ گیا ہے اس لئے اس کی قیمتیں معمول پر نہیں آرہیں اور اس لئے لوگوں کو گھی میسر نہیں آرہا۔یہ اعلان ہو جانا تو بڑے شرم کی بات ہے اور یہ کوئی عذر معقول تو نہیں مگر حکومت کی طرف سے یہ عذر ہو کہ ہم کیا کریں ہم نے تو پیداوار دوگنی کر دی تھی لیکن لوگ باہر لے جارہے ہیں تو یہ عذر کسی معقول آدمی کے نزدیک عذر معقول نہیں۔حکومت اس بات کی ذمہ دار ہے کہ ہماری کوئی چیز ناجائز طور پر ملک سے باہر جانے نہ پائے اور اگر جاتی ہے تو وہ کوتاہی ہے۔