خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 386
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۸۶ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء بیچنے والے دھوکا بھی کر جاتے ہیں۔بڑی تعریف کر کے پھل دے دیا مگر وہ نہایت نکما ، خراب ،سڑا ہوا نکل آیا۔تا ہم پیسوں کا ضائع ہو جانا اس بات سے زیادہ اچھا ہے کہ ایک چیز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ہے ہم اسے پسند کر لیں یعنی بازاروں میں کھانے پینے لگ جائیں۔ہمارے ملک میں بھی سڑکوں کے کناروں پر کھڑے کھڑے کھانے پینے کا رواج پڑ گیا ہے۔یورپ کے اکثر ملکوں میں خاص طور پر فرانس میں سڑکوں کے کناروں پر قہوہ خانے اور چائے کی دکانیں ہوتی ہیں جہاں لوگ سڑکوں پر کھڑے کھڑے کھا پی لیتے ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔اس لئے یہاں اس بات کا انتظام ہونا چاہیے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید بعض جگہ اس سال ممکن نہ ہو لیکن امور عامه، خدام الاحمدیہ اور افسر جلسہ سالا نہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ دوست جنہوں نے صرف ایام جلسہ میں دکانیں کھولنی ہیں وہ قناتیں لگا کر بیٹھنے کا انتظام کریں تا کہ دوست وہاں بیٹھ کر کھا ئیں پیئیں۔سڑکوں پر چلتے پھرتے نہ کھائیں کیونکہ جو چیز ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری نہیں ہے وہ ہمیں بھی پیاری نہیں ہونی چاہیے۔غرض طہارت ظاہری اور طہارت باطنی کا خیال رکھنا بڑا ضروری ہے۔خصوصاً جلسہ سالانہ کے موقع پر جب کہ بیرونی ممالک سے بھی احباب کثرت سے تشریف لا رہے ہیں۔وہ اہلِ ربوہ پر تنقیدی نگاہ ڈالیں گے۔اس لئے علاوہ طہارت باطنی کے ظاہری طور پر بھی صفائی ہونی چاہیے۔کپڑے اچھے ہوں۔صاف اور ستھرے ہوں۔منہ صاف ہو۔زبان ستھری ہو۔ظاہری طور پر بھی اور زبان سے جو الفاظ نکلیں وہ بھی پیارے ہوں۔چہروں پر مسکراہٹیں کھیل رہی ہوں۔اس کا تو میں دو سال سے آپ کو سبق دے رہا ہوں اور یہ اس لئے دے رہا تھا کہ باہر سے آنے والے بھی دیکھ لیں کہ ہمارا دشمن اور مخالف اور بدخواہ ہمارے چہروں سے ہماری مسکراہٹیں نہیں چھین سکا۔اس نے اپنا پورا زور لگا یا مگر وہ اپنے ارادوں میں ناکام رہا۔آئندہ بھی انشاء اللہ ہمارے چہروں سے ہماری مسکراہٹ کو کوئی بھی چھین نہیں سکے گا کیونکہ یہ وہ قوم ہے جس کے لئے آخری فتح مقدر ہو چکی ہے۔افراد کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔تاہم اجتماعی حیثیت میں جماعت احمدیہ کو کوئی