خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 387 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 387

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۸۷ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء فکر نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر ایک حصہ کمزوری دکھائے گا اور جماعت سے کٹ جائے گا تو وہ اس سے بہتر گروہ لے آئے گا لیکن جو شخص کمزوری دکھائے گا اور جماعت سے کٹ جائے گا تو اس کے لئے ہلاکت مقدر ہے۔اس کے لئے عذاب اور قہر الہی مقدر ہے۔پس افراد کو اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ساری دنیا میں غلبہ اسلام کی مہم کو چلانے کا مرکز ہونے کی حیثیت میں اہل ربوہ پر ظاہری اور باطنی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس لئے دوست ربوہ کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور نبھا ئیں اور باہر سے آنے والے دوستوں کے لئے ایک ایسا عمدہ نمونہ بنیں کہ جسے وہ ساری عمر بھول نہ سکیں ان کو یہ ہمیشہ یادر ہے کہ وہ ایسے شہر میں گئے تھے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس کثرت سے نازل ہوتی ہیں کہ وہاں کے مکینوں کی حالت بدل گئی ہے۔ان کی ظاہری شکلیں اور باطنی اوصاف حقیقی اسلام کے رنگ میں رنگین ہیں اللہ تعالیٰ نے اُن میں گویا غیر معمولی طور پر ایک نیک تبدیلی پیدا کر دی ہے ورنہ اگر یہ تبدیلی پیدا نہیں کرنی تو یہاں رہنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے جن لوگوں کا صرف تجارتیں کرنا مقصد ہے اور خدا کی رحمتوں سے انہیں حصہ لینے کا خیال نہیں ہے وہ باہر جا کر تجارتیں کریں اور دنیا کمائیں۔وہ ہمارے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں لیکن جو لوگ مرکز سلسلہ میں خدا اور اس کے رسول کی خاطر غلبہ اسلام کی عظیم جدوجہد میں شریک ہونے کے لئے آئے ہیں اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ دعاؤں کے ساتھ اور تدبیر کے ساتھ اور ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ اور اس محسن اخلاق کے ساتھ جس کا حسین ترین مظاہرہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہمیں نظر آتا ہے باہر سے آنے والے غیر از جماعت دوستوں کے دل موہ لیں اور اس مرکز احمدیت میں جو اپنے دوست آتے ہیں اور اہل ربوہ کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں، دوست اپنے عمدہ نمونہ اور حسنِ اخلاق سے اُن کے ایمانوں کی پختگی اور استقامت کے سامان بھی پیدا کریں۔چونکہ باہر سے وفود کی شکل میں دوست پہلی بار ربوہ آرہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول کے لئے دوست دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں