خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 374
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۴ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء دائرہ استعداد کے مطابق انتہائی محبت کرنا ہے) چنانچہ قرآنِ کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے دل میں اس محبت کا پیدا ہونا اور انسان کا اس قوت اور استعداد کا حامل ہونا بتاتا ہے کہ انسان کے دل میں اصل محبت وہی ہے جو اسے اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک اور معنی میں ایک دوسرے سے محبت کرنے کی بھی اجازت دی فرما یا اپنے رشتے داروں سے پیار کرو۔اپنے بیوی بچوں سے پیار کرو۔بیویاں اپنے خاوندوں سے پیار کریں اور یہ دراصل خدا تعالیٰ کی اپنی محبت کے سائے ہیں جن کے نیچے وہ بنی نوع انسان کو رکھنا چاہتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی تیز چمکتی ہوئی روشنی نہیں۔بلکہ ایک سایہ اور ظل ہے اس بنیادی اور روشن ترین محبت کا جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ ہوتی ہے۔دنیا میں انسان ایک دوسرے سے ( رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں سے ) بِاِذْنِ اللہ جو محبت کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی اصل روشنی کی نشاندہی کے مترادف ہے۔تاہم اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں کسی اور کی محبت نہیں ٹھہر سکتی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی زبان سے یہ کہلوایا کہ انسان کے دل میں خدا سے محبت سے مراد یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اس قدر عظمت بیٹھ جائے کہ دنیا کی ساری عظمتیں اس کے سامنے بیچ ہو جا ئیں۔اور خدا کی عظمت سے بڑھ کر اور کس کی عظمت ہو سکتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ کا پیار پیدا کرنے کے لئے گو انسانی فطرت میں قوت تو موجود ہے لیکن جس طرح آنکھ میں قوت ہے دیکھنے کی تو اس کے لئے سورج کی ضرورت ہے۔اگر سورج کی روشنی نہ ہو تو آنکھ باوجود بصارت کے دیکھ نہیں سکتی ، اسی طرح انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے کی قوت اور استعداد تو ہے لیکن اس کے جلوہ گر ہونے کے لئے کچھ سامان ہونے چاہئیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بار بار اپنے حسن واحسان کو انسان کے سامنے پیش کیا ہے اور اس طرح گویا اس کے دل میں اپنے لئے محبت اور پیار پیدا کرنے کے سامان پیدا کئے ہیں۔کیونکہ حسن و احسان کی یہی دو صفات ہیں جن کے نتیجہ میں انسان کے دل میں محبت اور پیار پیدا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ حسن کے لحاظ سے بھی ہر حسن کا سر چشمہ ہے اور احسان کے لحاظ سے۔