خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 373
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۳ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء ہوتا ہے کہ کس قسم کی طاقت مراد ہے اور اس کا ذکر ہم اکثر کرتے ہیں اور ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کی طاقت مراد ہے جس قسم کی طاقت ایک پہلوان کی ہوتی ہے یا ایک باڈی گارڈ کی طاقت ہوتی ہے جسے دیکھ کر راستے میں چلتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں یا ذہنی طور پر اس شخص کے متعلق کہہ سکتے ہیں جو بچوں کو بندر کا تماشا دکھا رہا ہوتا ہے اس میں بند رکو سدھانے کی طاقت ہوتی ہے۔ہم اس قسم کی بے شمار چیزوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن روحانی صلاحیتوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن اُن کی تفصیل عام طور پر نہیں بتاتے اس لئے عام ذہن اس کا تصور نہیں کر سکتا کہ آخر کون سی بنیادی روحانی صلاحیتیں مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں۔یوں تو بہت سی ہیں لیکن میں نے ان میں سے آٹھ کا انتخاب کیا تھا۔چنانچہ میرے نزدیک پہلی روحانی قوت جو انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے وہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنے پیدا کرنے ( والے ) رب سے انتہائی پیار کرنے کی طاقت ہے یہ گویا ایک روحانی قوت ہے اور انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے ربّ سے پیار کرے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہوئے یہ کوشش کرے کہ اپنے دائرہ استعداد میں اس روحانی صلاحیت کی نشو نما کو کمال تک پہنچائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشعار میں ایک جگہ فرمایا ہے۔تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا پس اللہ تعالیٰ کے لئے انسانی فطرت میں اور اس کی روحانی صلاحیت میں محبت کرنے کی جو قوت ہے، وہ ایک زبر دست بنیادی روحانی طاقت ہے۔اس لئے انسانی فطرت سے جہاں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما کرے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ چونکہ اس نے انسان کو اپنے ساتھ محبت اور پیار کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور اسے ایسی قوت اور طاقت دی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اس قوت کی نشو ونما کو کمال تک پہنچائے اور جس حد تک ہو سکے اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔( جس حد تک سے میری مراد اپنے اپنے