خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 372
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۲ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء چونکہ یہ بات بھی ودیعت کی گئی ہے کہ اس کا قدم آگے سے آگے بڑھتا ہے اس لئے آپ اپنی صلاحیتوں کو اس کمال تک لے گئے جہاں تک کسی دوسرے انسان کی پہنچ ہی نہیں ہے اس لئے اس نقطہ نگاہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو ہمارے لئے اُسوہ نہیں بنایا گیا مثلاً ہماری خلق ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کمال حاصل تھا اور آپ کی فطرت میں جس قدر ہمدردی خلق ہمیں نظر آتی ہے اسی قدر اور اسی وسعت کے ساتھ اور اسی عظمت کے ساتھ ہمدردی خلق کا جذبہ کسی دوسرے انسان میں نہیں پایا جا سکتا۔اگر کوئی شخص کوشش بھی کرے تب بھی وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔گو ہمت اور استعداد اور صلاحیت کا دینا اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ جتنا لینا چاہے لے لے لیکن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہمارے لئے بنیادی طور پر اُسوہ حسنہ ہیں۔اس لئے آپ نے جس طرح اپنی فطری صلاحیتوں اور استعدادوں کو کمال تک پہنچادیا ( اور اس بات میں آپ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں ) اسی طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس اُسوہ کو دیکھ کر اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی صلاحیتوں کو نشوونما کے کمال تک پہنچا ئیں۔جیسا کہ میں پہلے کئی بار بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں عطا فرمائی ہیں یعنی انسانی فطرت میں یہ چار قسم کی بنیادی صلاحیتیں اور استعداد میں ودیعت کی گئی ہیں۔میرے اس مضمون کا جو حصہ رہ گیا تھا وہ اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ بنیادی طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اُسوہ بن گئے مگر جہاں تک صلاحیتوں اور استعدادوں کا تعلق ہے اس معنی میں کہ جس طرح آپ نے اپنی فطری صلاحیتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچایا تھا اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ آپ کے نمونہ کے مطابق اور آپ کی زندگی اور عمل کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی صلاحیتوں کی نشو ونما کو کمال تک۔پہنچادیں۔علاوہ ازیں میرے ذہن میں اس وقت جو مضمون تھا۔اس میں آٹھ بنیادی روحانی صلاحیتوں کے بارہ میں کچھ کہنا تھا۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ جسمانی طاقت کی نشوونما ہو تو سوال پیدا