خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 341 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 341

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۱ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء ہے اور محفوظ رکھتی ہے اور اپنے نمونہ اور خدا داد فراست کے ذریعہ یا اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اس سے سیکھی ہوئی تعلیم کے ذریعہ دنیا تک قرآن کریم کے نئے سے نئے علوم پہنچاتی رہتی ہے۔پس یہ خَيْرَ أُمَّةٍ اُمّتِ مسلمہ کی ایک بنیادی صفت ہے۔اس سے انکار نہیں کیا جاتا اگر خدا کی نگاہ میں خیر امت بننا ہے تو ایسا بنا پڑے گا۔پھر چوتھی چیز یہ ہے کہ ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ چونکہ مطہرین کے علاوہ کسی پر بطون واسرار قرآنی ظاہر نہیں ہونے تھے۔اس لئے شروع سے لے کر آج تک اُمتِ مسلمہ میں مطہرین کا ایک گروہ پیدا ہوتا رہا۔ان کے ساتھ بعض علمائے ظاہر نے جو کچھ کیا اس کو دہرانے کی مجھے ضرورت نہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت مسلمہ میں ہر صدی میں لاکھوں کی تعداد میں وہ مطہرین کا گروہ پیدا ہوتا رہا جس نے قرآنِ کریم کی حقیقت کو پہچانا اور صحیح رموز قرآن انہوں نے کتاب مبین سے بھی حاصل کئے اور کتاب مکنون کے حصے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے وہ بھی اپنے رب سے سیکھے اور اب ہم اس زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں۔جس زمانہ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ اسلام کی حق وصداقت کی شیطانی قوتوں سے آخری جنگ ہوگی اور آپ تاریخ انسانی پر نظر ڈالیں۔مذہب پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل اور مذہب اسلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اتنے حملے اس کثرت کے ساتھ اس شدت کے ساتھ اس قسم کے دجل کے ساتھ اور ظاہر میں ملمع چڑھا کر اس قسم کے مؤثر بنا کر اعتراضات نہیں ہوئے جتنے آج ہورہے ہیں۔دشمن کا حملہ کتاب مبین سے تعلق رکھنے والا بھی ہے یعنی جو پہلے اعتراضات ہیں وہ بھی دہرائے جارہے ہیں اور نئی روشنی میں بدلے ہوئے نئے حالات میں نئے اعتراضات بھی کئے جا رہے ہیں۔اتناز بر دست حملہ اسلام پر ہے کہ اس سے قبل کے زمانہ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔نہ مستقبل میں اس قدر شدید حملہ کا تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ حملہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔اتنا شدید حملہ کہ بعثت مہدی علیہ السلام سے چند سال قبل ہندوستان کے پادریوں نے یہ اعلان کیا کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے اور ” خداوند یسوع مسیح کی ایسی برکتیں اس ملک ہند میں پھیلنے والی ہیں کہ اس ملک میں اگر کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا