خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 342

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۲ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء ہوئی کہ وہ کسی مسلمان کا چہرہ دیکھ سکے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی کیونکہ ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔یہ شدت تھی اس حملہ میں۔پھر ہندوستان سے باہر والوں نے یہاں تک اعلان کیا کہ خانہ کعبہ پر (نعوذ باللہ ) خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا ، اس قسم کے شدید حملے تھے ان حملوں کی شدت بتا رہی تھی کہ پیشگوئی میں جو یہ کہا گیا تھا کہ اس آخری جنگ کو فاتح کی حیثیت میں امت محمدیہ کا جرنیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند جو دنیا میں بھیجا جائے گا وہ مہدی اور مسیح کے لقب سے آئے گا۔اسلام پر حملے بتا رہے ہیں کہ مسیح و مہدی کی ضرورت ہے۔اسلام پر اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا کہ میں نے تین ہزار نئے اعتراضات عیسائیوں کی طرف سے اسلام پر کئے جانے والے جمع کئے ہیں پھر آپ نے کہیں اعتراض کا ذکر کر کے اور کہیں ذکر کئے بغیر اسلام کی تعلیم اس طرح پیش کی کہ وہ اعتراض دور کرتی چلی گئی۔بہر حال میں اس وقت یہاں اپنے مضمون کے سلسلہ میں یہ بتا رہا ہوں کہ اتنا شدید حملہ اسلام پر جو ہوا وہ پکار رہا تھا اور آسمان اور زمین پکار رہی تھی کہ اگر اسلام نے دنیا میں قائم رہنا ہے تو مہدی کو اس وقت ہی آنا چاہیے۔پھر خدا تعالیٰ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارتیں دی تھیں جو اپنے وعدوں کا پکا اور سچا ہے اور متصرفانہ قدرتوں کا مالک ہے۔اس نے مہدی علیہ السلام کو بھیج دیا مہدی اور مسیح علیہ السلام آگئے اور یہ جو بپھری ہوئی طوفانی موجوں کی طرح عیسائی پادری اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے کہاں گئیں وہ موجیں اور کہاں گئیں ان کی شوخیاں؟ وہ پیچھے ہٹے اور پسپا ہو گئے لیکن بہتوں کو ابھی یہ چیز نظر نہیں آرہی کیونکہ ابھی وہ آخری فتح مہدی کو اور آپ کی فوج کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو حاصل نہیں ہوئی۔جو مقدر ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کو آخری غلبہ حاصل ہونا ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے اور ساری دنیا میں پھیل جانے والا ہے۔وہ مہدی علیہ السلام آیا اور جس قسم کے شدید حملے ہور ہے تھے اس نسبت کے ساتھ بڑی تعداد میں بڑی گہرائیوں اور بڑی رفعتوں والے بطونِ قرآنی آپ نے دنیا کے سامنے پیش کئے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک عیسائی نے یہ سوال کیا کہ جب آپ کے نزدیک تو رات بھی خدا تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے تو اس الہامی کتاب کے بعد