خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 320

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۰ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء اور وہ ملک جس کا ہاتھ غیر اللہ کے سامنے پھیل گیا وہ حقیقی معنے میں تو خیر امت کا حصہ نہیں رہا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ قریباً چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں ، دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں دُنیا کی کسی نہ کسی جماعت میں ہمیں یہ صفت ضرور نظر آتی ہے۔یعنی اُمت مسلمہ مجموعی طور پر اس صفت سے خالی نظر نہیں آتی۔بلکہ امت مسلمہ میں ایسے گروہ ہمیشہ پیدا ہوتے رہے ہیں جن کا ہاتھ خدا کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں پھیلا۔وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لئے خدا تعالیٰ پر پورا توکل رکھتے تھے اور رکھتے ہیں اور صبر سے کام لیتے تھے اور لیتے ہیں۔اب مثلاً جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں کچھ عرصہ بھوکا رہ لوں گا مگر کسی سے مانگ کر نہیں کھاؤں گا۔اس صورت میں صبر کی ضرورت ہے اُسے کچھ عرصہ صبر سے کام لینا پڑے گا۔اسی لئے صبر اور تو گل کو قرآن کریم میں کئی جگہ اکٹھا کر دیا گیا ہے کیونکہ صبر کا تعلق تو کل علی اللہ سے بہت زیادہ ہے۔غرض اسلام کسی کے دل میں مایوسی نہیں پیدا کرتا۔قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔ہم اس کے عام طور پر یہ معنے کیا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی گناہوں کو بخش دیتا ہے۔یہ درست ہے، اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس لحاظ سے بھی ہمارے دل میں مایوسی پیدا نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس کے علاوہ بھی انسانی زندگی کے ہزاروں پہلو ایسے ہیں جن میں انسان اگر صحیح اسلامی تعلیم پر عمل کر رہا ہو تب بھی حصول مقصد اور ابتدائی کوشش میں ایک فاصلہ ضرور ہوتا ہے۔جب انسان کسی کام کے لئے کوشش کی ابتدا کرتا ہے تو اس وقت وہ بے صبری سے کام نہیں لیتا بلکہ صبر کرتا ہے اور بشاشت کے ساتھ دکھ اور پریشانی اُٹھاتا ہے یعنی دنیا کی نگاہ میں وہ دُکھ ہوتا ہے یا جسمانی تکلیف ہوتی ہے یا بعض اور تکالیف ہوتی ہیں جن میں سے انسان کو گذرنا پڑتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں انسان کو جو راحت نصیب ہوتی ہے اس سے سارے دُکھ درد کا فور ہو جاتے ہیں۔پس اس سے جہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صبر اور توکل علی اللہ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے وہاں اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ ہر انتہا ایک ابتدا کی محتاج ہے۔اگر کسی کام کی ابتدا