خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 306
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء ہیں مثلاً میں نے اپنے پچھلے خطبہ میں بلڈ پریشر (خون کے دباؤ ) کے متعلق بات کی تھی اور جان بوجھ کر اس کی تفصیل بیان کر دی تھی اس لئے کہ ہمارے بہت سے بچے اور بعض دوسرے لوگ بھی اس کی تفصیل نہیں جانتے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو ان کے علم میں آنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کی صفات سے متصف ہونا ہماری زندگی کا ایک بنیادی مقصد ہے اور اس کا ہمیں بنیادی طور پر حکم بھی دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی قرآنِ کریم کی یہ تعلیم پیش کی ہے۔آپ سے پہلے جتنے بزرگ گزرے ہیں وہ بھی یہی تعلیم پیش کرتے رہے اور آپ کے بعد بھی یہی پیش کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے اوپر صفات باری کا رنگ چڑھانا ہے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت اس کا عَلامُ الْغُيُوبِ ہونا ہے یعنی اس کا ئنات کی کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ہم نے بھی اس صفت سے متصف ہونا ہے مگر ایک محدود دائرہ کے اندر ہم پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ خدائ عَلامُ الْغُيُوبِ کی طرح کوئی چیز بھی ہم سے بھی پوشیدہ نہ ہولیکن ہم پر یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ اپنی استعداد کے مطابق جتنی غیب کی چیزیں حاضر میں لائی جاسکتی ہیں اتنی حاضر میں لانی یا ہمارے علم میں آنی چاہئیں اور اس طرح ہمارا علم بڑھنا چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم کتابیں پڑھنے والی قوم ہیں ہم علمی باتیں سننے والی قوم ہیں۔ہم باہمی تبادلۂ خیال کرنے والی قوم ہیں، ہم دوسروں سے کہیں زیادہ اور بلا جھجک سوال کرنے والی قوم ہیں ، ہمارے دل میں اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو ہم بلا جھجک اس کا حل تلاش کر نے والی قوم ہیں۔آپ باہر نکلیں تو پتہ لگتا ہے کہ جماعت کی علمی استعداد کہاں تک پہنچی ہوئی ہے۔اس سفر میں مجھے بعض دفعہ پر یس کا نفرنس میں یہ کہنا پڑا کہ مجھ سے حجاب کی کیا ضرورت ہے میں تو ایک درویش آدمی ہوں۔تمہارے دل میں جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ کرو تا کہ ہر قسم کی غلط فہمیاں دُور ہو جائیں لیکن بعض دفعہ میں یہ محسوس کرتا تھا کہ صحافی جھجک محسوس کر رہے ہیں حالانکہ ہم تو سیدھے سادھے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کا ایک پہلو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ( ص : ۸۷) اس لئے کسی قسم کا تکلف نہیں چاہیے۔پیار سے باتیں کرنی چاہئیں بعض لوگ پیار سے جواب دیتے ہیں۔بعض