خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 305

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۰۵ خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء غرض سوئٹزرلینڈ کے دس کے دس احباب جب اکٹھے مل کر بیٹھیں گے تو آپس میں تبادلۂ خیال کریں گے ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جو نظارے احمدی دیکھ رہے ہیں ان کے متعلق مختلف احباب کے تاثرات اکٹھے ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو علمی اور تبلیغی لحاظ سے حسین اور خوشکن اثر پیدا کرے گی۔پس دوسری بات جس کا میں اعلان کر رہا ہوں وہ قلم دوستی کی تحریک ہے دوست جہاں یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے صحت دے اور کام آنے کی توفیق عطا فرمائے وہاں یہ دعا بھی کریں کہ جتنے آدمی اس وقت اس تحریک کے لئے درکار ہیں وہ مل جائیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ میرے دماغ میں منصوبے ڈالتا ہے اور کام کرنے کی تفصیلات بھی بتا تا ہے لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ میرے پاس ایسے دوست ہونے چاہئیں جن کو میں یہ کہوں کہ یہ کام کرو۔یہ ساری باتیں اور یہ سارے کام میں اکیلا تو نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ پانچ سو گھنٹے کا ایک دن ہو جائے اور اس کا کچھ حصہ میں کام کر جاؤں لیکن دن تو بیچارہ چوبیس گھنٹے سے آگے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے کہ نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ چاند سورج کو ، دن اور رات کا فرق تو یہی رہنا ہے۔انسانی جسم کی اپنی حد بندیاں ہیں۔ہر انسان خواہ وہ پہلوان ہو یا عام آدمی ہو اس کا جسم ایک وقت میں جا کر تھک جاتا ہے اسے سونے اور آرام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے پھر جو کام ہوتا ہے اس کی ترتیب ہوتی ہے کچھ وقت ہم احمدیوں کا تلاوت قرآن کریم پر لگتا ہے کچھ وقت ہم احمدیوں کا قرآنِ کریم کی مختلف آیات کی تفسیر اور ان کے معانی پر غور کرنے پر خرچ ہوتا ہے کچھ وقت ہم احمدیوں کا مطالعہ پر خرچ ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ کو مجموعی طور پر اتنا اعلیٰ دماغ اور روشن دل عطا ہوا ہے جس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی اور یہ اس لئے ہے کہ دوست ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں میرے خطبے سنتے ہیں جن میں میں مختلف مسائل اور موضوعات پر باتیں کرتا ہوں۔میں بعض دفعہ جان بوجھ کر چھوٹی چھوٹی تفصیلات بتا دیتا ہوں جس نے کوئی تفصیلی بات پہلے سنی ہوتی ہے وہ کہہ دیتا ہے حضرت صاحب نے یہ کیا بات شروع کر دی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کی تفصیل بیان کرنے لگ گئے