خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 303
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۰۳ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء میں پہنچ جائیں گے۔یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔بہر حال زیادہ سے زیادہ وفود کی شرکت اس سال سے شروع ہو جانی چاہیے۔ایک اور بات جس کا میں اس وقت اعلان کرنا چاہتا ہوں وہ قلم دوستی ہے اور یہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے ایک ہے جو ملک ملک کے درمیان قرب پیدا کرنے کے لئے ہیں۔قلم دوستی ایک منصوبہ کے ماتحت عمل میں آنی چاہیے مثلاً انگلستان اور دوسرے ملکوں سے پتہ لیا جائے اور مجھے رپورٹ ملنی چاہیے کہ انگلستان میں اس قدر احباب تیار ہیں ( مجھے امید ہے انگلستان میں رہنے والوں میں سے پانچ سو نو جوان مل جائیں گے۔شروع میں ایک سو تو یقینی مل جائیں گے ) اتنے نائیجیریا کے تیار ہیں، اتنے غانا کے تیار ہیں ، اتنے آئیوری کوسٹ کے تیار ہیں، اتنے لائبیریا کے تیار ہیں، اتنے سیرالیون کے تیار ہیں ، اتنے گیمبیا کے تیار ہیں ، اتنے سینیگال کے تیار ہیں اور بھی کئی ملکوں میں ہماری احمدی جماعتیں قائم ہیں ان میں سے بھی چاہیے احباب تیار ہوں کیونکہ اس تحریک میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔اسی طرح نجی کے رہنے والے، انڈونیشیا کے رہنے والے، آسٹریلیا کے رہنے والے، یورپین ممالک کے رہنے والے، ہندوستان کے رہنے والے، پاکستان کے رہنے والے مصر کے رہنے والے سعودی عرب کے رہنے والے ( کوئی یہ نہ سمجھے کہ عرب ممالک میں کوئی احمدی نہیں دنیا مخالفت کرتی ہے تو کرتی رہے وہاں احمدی ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ) ابوظہبی میں رہنے والے غرض مشرق وسطی کے سارے ممالک میں رہنے والے احمدی قلم دوستی کی مجالس میں شامل ہونے کے لئے اپنے نام پیش کریں۔پھر ایک منصوبہ کے ماتحت ان کی آپس میں دوستیاں قائم کیں جائیں گی۔اس قسم کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی مثال ایک شاندار رنگ میں اور شاندار پیمانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔اب چونکہ اُمت محمد یہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اس صورت میں ان میں دوستانہ اور قریبی تعلقات پیدا کرنے کی ایک راہ یہ ہے کہ ان کی آپس میں قلم دوستی ہو۔اس کا اثر اس مثال سے واضح ہو جائے گا کہ فرض کریں سوئٹزرلینڈ میں ہماری ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ہمارے سوئس دوست جو پہلے عیسائی تھے یاد ہر یہ تھے وہ