خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 302
خطبات ناصر جلد پنجم ٣٠٢ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء نہیں دیتا لیکن جہاں تک ممکن ہو تحریک جدید پورا زور لگائے کہ ملک ملک سے دوست وفود کی شکل میں تشریف لائیں جن میں زیادہ تر مقامی باشندے ہوں یعنی یہ نہ ہو کہ ہمارے پاکستانی دوست جو باہر گئے ہوئے ہیں اور وہ وہاں پیسے کما رہے ہیں اور انہوں نے اپنی چھٹی کا ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ وہ جلسہ سالانہ پر آجائیں ان کو وفد میں شامل کر لیا جائے یا صرف انہی سے وفد تشکیل کر لیا جائے۔ٹھیک ہے اگر ایسے دوست کی نیت نیک ہے تو چونکہ خدا تعالیٰ بڑا د یا لو ہے وہ اس کی نیک نیتی اور قربانی کی اسے بہترین جزا عطا فرمائے گا لیکن جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے وفود آئیں جن کا مقصد صرف جلسہ سالانہ کی برکات سے متمتع ہونا ہو اور جو فوراً واپس بھی چلے جائیں۔مگر چھٹی پر آنے والے دوستوں کے کئی مقاصد ہوتے ہیں مثلاً پچھلے سال جلسہ سالانہ اور حج اور پھر واپس گھر پہنچنے کے درمیان قریباً ڈیڑھ دو مہینے کا فرق تھا۔چنانچہ کئی دوست بیرونی ممالک سے تشریف لائے انہوں نے جلسہ سالانہ سُنا اور پھر فریضہ حج ادا کرنے کی سعادت بھی پائی۔یہ ایک بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ہمارے اکثر دوست جن کے حج کی راہ میں جہالت اور غفلت آڑے نہیں آتی یا قرآن کریم سے لا پرواہی کے نتیجہ میں جن پر حج کی راہیں بند نہیں کر دی جاتیں وہ حج کرتے ہیں اور ثواب پاتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتے ہیں اور اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مکہ مکرمہ میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو احسن جزا عطا فرمائے۔یہ اپنی جگہ ایک بہت بڑی نیکی کا کام ہے لیکن وفود کی شکل میں دوستوں کا جلسہ سالانہ پر آنا دراصل حج اور دوسری نیکیوں کے حصول کے لئے مخلصانہ تڑپ پیدا کرنے کے مترادف ہے یعنی اس طرح ایسی جماعت پیدا کرنا مقصد ہے جن کے دل ہر وقت اخلاص کے ساتھ قرب الہی کے حصول کے لئے بے قرار اور رحمت الہی کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔پس یہ منصوبہ دراصل حج کی تڑپ رکھنے والی جماعت تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو تمام روکوں کو پھلانگ کر فریضہ حج ادا کر سکے اس لئے بیرونِ ملک سے وفود کی شکل میں دوست جلسہ سالانہ پر تشریف لائیں اور پھر ادھر اُدھر ٹھہرے بغیر وہ واپس چلے جائیں اس طرح وہ وہاں جا کر جو کام کریں گے اس کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ لوگ حج کرنے کی کوشش کریں گے۔کچھ کو روکا جائے گا اور کئی ساری روکوں کے باوجود دیارِ حرم