خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 295
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۵ خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء اُچھالنے کا وقت ہے۔یہ کام کا وقت ہے اپنی حکومت کو تو جہ دلانے ، اس کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے اور اسے تسلی دلانے کا وقت ہے کہ اس وقت جو بھی مطالبہ کیا جائے گا ہم میدانِ عمل میں وہ مطالبہ پورا کریں گے۔غرض جب بھی حکومت اہلِ پاکستان سے مطالبہ کرے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ دیکھیں گے کہ جماعت احمدیہ کا مقام کتنا بلند اور کتنا ارفع ہے۔تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہی پر ہمارا تو کل ہے۔اسی کی قدرتوں کے جن قادرا نہ تصرفات کو ہماری آنکھوں نے مشاہدہ کیا ہے۔اس کی وجہ سے ہمارے دل نتیجہ کے لحاظ سے بھی مضبوط ہیں اور قربانیوں کے لحاظ سے بھی ہشاش اور بشاش ہیں۔قربانیاں دینے سے احمدی گریز نہیں کرتا۔وہ مسکراتے چہرہ کے ساتھ قربانیاں دیتا چلا آیا ہے اور اب بھی قربانیاں دے رہا ہے اور قربانیاں دیتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ تعالی۔ایک اور ضروری بات بھی میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں کیونکہ انتظار نہیں کیا جاسکتا اس لئے طبیعت میں کمزوری کے باوجود میں وہ بات ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا ایک وقت تھا قادیان سے باہر اکا دُکا خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے واقفیت رکھتے تھے اور آپ کے مقام کو پہچانتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا قادیان کے ماحول میں جماعت پھیلی۔پھر پنجاب میں پھیلنی شروع ہوئی۔پھر متحدہ ہندوستان ( یعنی پاکستان بننے سے پہلے کے ہندوستان) میں پھیلنے لگی۔پھر الہی بشارتوں کے ماتحت بیرونی دنیا میں پھیل گئی مگر ۱۹۴۴ ء تک بیرونی ہندوستان کی جماعتیں مالی قربانیوں میں بہت پیچھے تھیں حتی کہ وہ اس قابل بھی نہیں تھیں کہ ان کا نام لیا جا تا یعنی اُن کے علیحدہ کوئی کھاتے نہیں تھے آمد و خرچ کے کوئی رجسٹر نہیں تھے۔اخراجات کے بجٹ نہیں بنتے تھے۔گویا ان کی مالی قربانی نہ ہونے کے برابر تھی جو لوگ مالی قربانی میں حصہ لینے والے تھے ان میں شاید ۹۹ فیصد یعنی بھاری اکثریت ان لوگوں کی تھی جو اس وقت کے متحدہ ہندوستان سے باہر مختلف ملکوں میں آباد ہوئے اور وہیں دولت کما رہے تھے اور بڑی بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں