خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 294
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۴ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء پس وہ لوگ جو اس غیر اختلافی مسئلہ میں فساد کی خاطر اور وحدت اسلامی کو کمزور کرنے کی خاطر آج باتیں بنا رہے ہیں اُن کو ہم یہ کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وزیر اعظم بھٹو کی قیادت میں حکومت پاکستان اہلِ پاکستان سے جس قسم کی قربانی لینا چاہتی ہو اس میں جماعت احمد یہ نہ صرف یہ کہ دوسروں سے پیچھے نہیں رہے گی بلکہ یہ ثابت کر دے گی کہ وہ ان قربانیوں میں دوسروں سے کہیں آگے ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی بشارتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ ہم کمزور ہیں اور ہم میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی خوبی لیکن ہم وہ ذرہ نا چیز ہیں جس کو خدا نے اپنے دست قدرت میں پکڑا اور اعلان فرمایا کہ میں اس ذرہ ناچیز کے ذریعہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کروں گا۔اس لئے جن قربانیوں کے دینے کا تصور بھی بعض لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے اُن سے کہیں زیادہ قربانیاں ہم عملاً ایثار کے میدان میں دے دیتے ہیں۔ہماری تاریخ نوع انسانی کی تاریخ اور ملک ملک کی تاریخ ہمارے اس بیان پر شاہد ہے۔پس حکومت وقت یا دوسری اقوام عالم جن کا تعلق اسلام سے ہے اُن کا یہ کام ہے ( ہر فرد اگر اپنے طور پر اس قسم کے منصوبے بنائے تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوا کرتا ہے ) کہ وہ سر جوڑیں اور منصوبے بنائیں اور پھر ہر اسلامی ملک کی ذمہ داریوں کی تعیین کریں مثلاً کہیں کہ فلاں ملک اس مہم اور مجاہدے میں یہ یہ خدمات اور قربانیاں پیش کرے یا اس قسم کا ایثار اور قربانی سامنے آنی چاہیے۔جب سارے اسلامی ممالک کسی منصوبے کے ماتحت اسلام کے دشمن کو جو اپنے ہزار اختلافات کے باوجود اکٹھا ہو گیا ہے اس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ایک جد و جہد ،ایک عظیم جہاد اور مجاہدے کا اعلان کریں گے پھر دیکھیں گے کہ کون اس میدان میں آگے نکلتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور ایک ہزار کی نسبت سے آگے نکل جائیں گے بلکہ ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ آگے نکلنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔پس میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ باتیں بنانے کا وقت نہیں ہے اور نہ ایک دوسرے پر کیچڑ