خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 293

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۳ خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا جن میں اختلاف نہیں نہایت ہی بے وقوفی اور جہالت کی بات ہے۔“ پس یہ وہ زبر دست انتباہ ہے جو اس فتنہ کے آغاز میں کیا گیا تھا یعنی ۱۹۴۸ء میں جب کہ اسرائیل کی حکومت معرض وجود میں آئی تھی اس میں ایک عظیم منصوبے کی طرف رہنمائی کی گئی تھی جس کے لیے تمام مسلم اقوام اور مسلم گروہوں میں اتحاد کی ضرورت تھی۔پھر اس میں مسلمانوں کو عقلاً سمجھایا گیا تھا کہ تم اس وقت اختلافات کو زیر بحث نہ لاؤ اور جو عقائد اور عادات اور روایات اور بدعات کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اُن کو بھول جاؤ کیونکہ جو مسئلہ ہمارے سامنے ہے، وہ اختلافی نہیں ہے۔وہ اسلام کی عزت کی حفاظت کا سوال ہے۔کوئی مسلمان یہ کبھی نہیں کہہ سکتا اور نہ اس کے دل میں یہ خیال ہی پیدا ہو سکتا ہے کہ جہاں اسلام کی عزت اور اس کی حفاظت کا سوال ہو وہاں اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔غرض آپ نے عالم اسلام پر یہ واضح کیا کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں کوئی اختلاف ہو، اس لیے ایک ایسے مسئلے میں جس میں اختلاف کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ اختلاف کا کوئی تصور پیدا ہو سکتا ہے، تم ایسے مسائل کو بیچ میں کیوں گھسیٹتے ہو جو اختلافی ہیں۔اس وقت تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب متحد ہو کر عزت و حفاظت اسلام کی خاطر قربانیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔لیکن اس وقت تو اس عظیم انتباہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور آج ایک طبقہ ہمارے خلاف باتیں بنارہا ہے۔اس کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی عزت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔جتنا خدا مانگتا ہے، جماعت احمدیہ دیتی چلی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔وَلا فَخْرَ۔ہمارے اندر کوئی خوبی اور بڑائی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ایسا ہوا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ وہ اسلام کو غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کی اس مرضی کے نتیجہ میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا۔گویا ایک ایسی جماعت دنیا میں پیدا ہو چکی ہے جو اسلام کی خاطر اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرتی ہے اور قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔