خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 288
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۸ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء چوٹی کے ملک ہیں اور جنہوں نے ساری دنیا کی دولت سمیٹی ہوئی ہے۔ان پر ہمارا اتنا رعب ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ کام نہیں کر سکتے۔جب تک حکومتیں مالی لحاظ سے ان کی پشت پناہی نہ کریں۔باقی رہا میرا یہ کہنا کہ میں بے بس ہوں اور ۲۰ / دسمبر کے بعد نصرت جہاں کی مد میں پیسے وصول نہیں کئے جائیں گے اس کی ایک وجہ ہے وہ میں بتا دیتا ہوں شاید آپ کے دماغ پریشان ہوں گے کہ یہ کیا بے بسی ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بعض اور منصوبوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو نصرت جہاں کے منصوبے سے بہت بڑے منصوبے ہیں۔اپنے کام کے لحاظ سے بھی اور زمانے کی وسعت کے لحاظ سے بھی اور ان کا اعلان میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی رحمت سے جلسہ سالانہ کے موقع پر کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے یہ درخواست کروں گا کہ جہاں آپ میری صحت کے لئے دعا کریں وہاں یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے زندگی اور توفیق عطا فرمائے کہ میں اس کی منشا کے مطابق اس نہایت اہم منصوبہ کی تفاصیل جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے سامنے رکھنے کی توفیق پاؤں اور اللہ تعالیٰ جماعت کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ اس منصوبے کی اہمیت اور افادیت کو سمجھے اور اس کے لئے آنے والے سالوں میں ( پتہ نہیں کتنے سال ہیں جن کا میں اعلان کروں گا ) قربانیاں دیتے چلے جائیں۔اس وقت جہاں تک یورپ کا سوال ہے ہم بڑے نازک مقام پر کھڑے ہیں اگر ہم نے اس وقت یورپ میں اسلام پھیلانے کے لئے قربانیاں دیں۔(ویسے اس منصوبے کا تعلق صرف یورپ سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے ہے لیکن میں اس منصو بہ کی صرف ایک چھوٹی سی مثال دے رہا ہوں ) تو خدا کرے اور اس کی رحمت جوش میں آئے تو کوئی بعید نہیں کہ اگلے دس سال میں جہاں ہم آج سینکڑوں کی باتیں کرتے ہیں کہ ان ملکوں میں اتنے سواحمدی ہیں جو عیسائیت یا دہریت یا مذہب سے لا پرواہی کو چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہیں وہاں ہم لاکھوں کی باتیں کرنے لگیں۔پس دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق بخشے اور میں جماعت کے سامنے یہ منصوبہ پیش کرسکوں اور جماعت کو اسے سمجھنے اور اس کے لئے قربانیاں دینے کی توفیق ملے۔اللہ تعالیٰ اپنی