خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 285
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۵ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء اور ابھی اور خرچ بھی ہوگا۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہی خوب فرمایا تھا کہ گھر سے تو کچھ نہ لائے یہ رقم بھی کیا ہم گھر سے لے کر گئے یا آپ نے دی یا یہ صرف آپ کی قربانیوں کا حصہ ہے۔نہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔اس نے اپنے خاص تصرف سے اپنی قدرت کی تاروں کو ہلا دیا اور ہمارے لئے دولت کے سامان پیدا کر دیئے اور ایک ملک میں دو ہسپتال بن گئے۔دوسرے ممالک میں حسب ضرورت سکولوں کی کئی عمارتیں بنیں۔ہسپتال کا تو یہ حال ہے کہ اس پر بتدریج خرچ تو کرتے ہیں لیکن ضرورت تو ایک حد تک بتدریج نہیں (جیسا سکول کی تعمیر میں ہوتا ہے) بلکہ ایک ہی وقت میں ضرورت پڑتی ہے مثلاً پہلے دن ہی ان کو Outdoor Patient کے لئے کمروں کی ضرورت ہوتی ہےIndoor Patient کے لئے کمروں کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح اپریشن تھیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اب ان دو ہسپتالوں میں سے جن کا میں ذکر کر رہا ہوں ایک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا مجھے خط ملا ہے۔پتہ نہیں ان کو کیا خیال آیا بڑی نیکی کا خیال آیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا۔انہوں نے مجھے لکھا۔ابھی یہاں آکر پرسوں اتر سوں ان کا خط پڑھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گو امیر صاحب نے میرے ہسپتال کے متعلق تفصیل لکھ دی ہوگی اور وہ آپ تک پہنچ چکی ہوگی لیکن میں بھی تفصیل لکھ دیتا ہوں ( یہ ہسپتال جماعت کی ملکیت ہے اس کا کچھ حصہ خریدا گیا ہے بہت بڑی زمین کے ساتھ اور کچھ حصے بنائے گئے ہیں اپنی طرف سے جو حصہ خریدا گیا ہے اس میں بہت بڑی عمارت تھی) کہ اس ہسپتال کے مختلف ونگز (Wings) ہیں اور بڑے بڑے کمرے ہیں جن میں مریضوں کے لئے رہائشی کمرے بھی شامل ہیں۔گویا یہ ہسپتال اکیس کمروں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر اور دوسرے عملہ کی رہائش کا بھی پورا انتظام ہے۔چنانچہ میں نے اس پر نوٹ دیا تھا کہ یہ سارا خط تفصیل کے ساتھ الفضل میں شائع کرا دیا جائے کہ ہسپتال کی یہ شکل ہے۔اتنے کمرے آؤٹ ڈور کے لئے اور اتنے ان ڈور کے لئے اور اتنے اپریشن تھیٹر کے لئے ہیں۔میرے خیال میں وہاں (اگر مجھے صحیح یاد ہے) تین کمرے آپریشن تھیٹر کے لئے ہیں۔ہمارے یہاں اس وقت تک فضل عمر ہسپتال میں صرف ایک آپریشن تھیٹر کی ضرورت پڑی اور