خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 268

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۸ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء بھی بیان ہوئی ہیں لیکن موٹی چیزیں یہی ہیں جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایسے حالات سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر ظلم کیا ہے وَمَا ظَلَمَهُمُ الله (ال عمران : ۱۱۸) بلکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور خدا تعالیٰ نے انسان کو اس کو اپنے ظلم سے بچانے کی خاطر کفارہ کے طور پر اور ایک انتباہ کے لئے اس قسم کے دکھوں اور تکلیفوں کے سامان اس دنیا میں پیدا کئے تا کہ وہ ان دکھوں سے نجات کے طریقوں کو تلاش کر کے اُخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے۔پس پاکستان میں جو سیلاب آئے اور ہمارے بہت سے بھائیوں کو جو دُ کھ اور تکلیفیں پہنچیں، جماعتِ احمد یہ ان کے دُکھوں میں برابر کی شریک ہے۔چنانچہ اس موقع پر احمدی بڑوں نے بھی اور احمدی بچوں نے بھی احمدی جوانوں نے بھی اور احمدی بوڑھوں نے بھی ، احمدی مردوں نے بھی اور احمدی عورتوں نے بھی اپنے دُکھ اور تکالیف بھول کر اپنے بھائیوں کو دُکھوں سے بچانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دی۔مجھے امید ہے کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کے یہ اوراق اپنی پوری تفصیل کے ساتھ محفوظ کر لئے گئے ہوں گے۔اگر نہیں کئے گئے تو اب پوری تفصیل کے ساتھ محفوظ کر لینے چاہئیں۔ان کو شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔لیکن ہماری تاریخ میں یہ واقعات محفوظ ہونے چاہئیں کہ کس طرح نوجوانوں نے اپنی عمر کے مطابق اور بڑوں نے اپنی عمر کے مطابق ذمہ داری کے جو کام تھے وہ ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر سرانجام دیئے اور اپنے پاکستانی بھائیوں کی تکلیفوں کو دُور کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے احسن عطا فرمائے اور اپنے فضلوں اور رحمتوں کے سمندر سے بہت بڑا حصہ اُن کے لئے مقدر کرے۔غرض جہاں پاکستان میں سیلاب کے دُکھ وہ حالات سُن کر تکلیف پہنچی تھی وہاں یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوتی تھی کہ جماعت نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور صحیح طریقہ پر اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی پوری کوشش کی۔جہاں تک میرے اس دورے کا تعلق ہے اس وقت میں زیادہ تو کچھ نہیں بیان کروں گا۔البتہ ابتدا کر دیتا ہوں۔ایک تو یہ کہ انگلستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑی جماعت