خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 263
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۳ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء جب مجھے سیلاب کی اطلاع ملی تو طبیعت میں بڑی بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہوئی اور ادھر اُدھر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔اپنے سفارت خانہ سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن کوئی زیادہ فائدہ نہ ہوا۔میں نے یہاں ہدایت کی تھی کہ روزانہ اطلاع آنی چاہیے روزانہ نہیں کم از کم ہفتے میں دو دفعہ تو ضرور مجھے اطلاع ملنی چاہیے۔پھر میں نے یہ ہدایت بھی دی کہ جماعت کام کرے۔یہ کام کا وقت ہے اور پھر ایک دفعہ تو یہ ہدایت بھی دینی پڑی کہ پیسے کی پروانہ کی جائے۔انسانی دُکھ اور در دکو دور کرنا ( جہاں تک ہمارے امکان میں ہے وہ) ضروری ہے اور اس سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔بہر حال مجھے تو اب بھی زیادہ علم نہیں ہے۔تاہم بڑے بھیا نک واقعات سننے میں آئے ہیں۔ملک کے جن حصوں میں سیلاب آئے ہیں یا جو حصے سیلاب کی زد میں آئے ہیں وہاں بڑی سخت تباہی آئی ہے یہ صحیح ہے کہ اکثر اونچے مقامات پر سیلاب نہیں آیا لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ جہاں جہاں سیلاب آیا ہے وہاں اس نے بڑی سخت تباہی مچائی ہے اور لوگوں کو بڑا دکھ اور تکلیف اٹھانی پڑی۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جہاں سیلاب آیا وہاں (اپنے احمدیوں کی میں بات نہیں کر رہا) دوسرے پاکستانی بھائیوں نے کہا کہ یہ سیلاب تو طوفانِ نوح کی طرح ہے۔پھر یہ بھی سننے میں آیا کہ بعض لوگوں نے کہا اسے عذاب نہ کہو کیونکہ پھر تو جماعت احمدیہ کو تقویت پہنچے گی بہر حال جس کی جو خواہش تھی اس کے مطابق اُس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے عقائد کو بدلنے کی کوشش کی اپنے اس لئے کہ قرآنِ کریم میں وہ بیان ہوئے ہیں اور بدلنے کی کوشش اس لئے کہ اس وقت یہی طریق چل رہا ہے۔کیونکہ دین سے ایک بعد پیدا ہو چکا ہے۔قرآن عظیم میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک تو غیب کی چابیاں ہیں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی غیب کو جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی ہستی عَلَامُ الْغُيُوبِ نہیں ہے یہ ایک معنی نہیں بلکہ یہ دو مختلف معانی ہیں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ غیب کی چابیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور دوسرے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی چیز غیب نہیں ہے۔انسان جس معنی میں بھی غیب کے لفظ کو استعمال کرے اللہ تعالیٰ کے حضور وہ غیب نہیں ہے بلکہ وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔