خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 244
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴۴ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء تعلق اولاد کے ساتھ ہے۔اولاد کے ساتھ اس رنگ میں بھی کہ اولاد کی صحیح تربیت ہو اور اس رنگ میں بھی کہ اگر خدا تعالیٰ یہی پسند کرے تو ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی اولاد کے گلے پر چھری پھیرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اعمالِ صالحہ کا تعلق جذبات کے ساتھ بھی ہے اور عزت نفس کے ساتھ بھی۔ہم بار بار خدام کو کہتے ہیں کہ اپنے جلسوں میں اعلان کرو کہ ہم اپنی عزتوں کو خدا کی راہ میں قربان کریں گے۔ہم بار بار کہتے ہیں کہ دوسروں کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچ رہی ہوں بشاشت کے ساتھ ان کو حصولِ رضائے الہی کی خاطر برداشت کرو۔ہم وہ قوم ہیں جو ہر قسم کی تکالیف کو خوشی سے برداشت کرتے ہوئے غلبہ اسلام کی شاہراہ پر بڑھتے ہی بڑھتے جارہے ہیں۔انسانی عقل راہ راست پر بھی رہتی ہے اور اس سے بھٹک بھی جاتی ہے۔عمل صالح عقل کے لحاظ سے بھی ہے۔جب انسان اپنی عقل پر اس قدر قابورکھ سکتا ہو کہ وہ بہکے نہیں اور صراط مستقیم پر قائم رہے اور غلط نہیں بلکہ صحیح نتائج نکالے۔دنیا جب جنون میں مبتلا ہوئی تو اس نے کہا کہ محض عقل کافی ہے، الہام کی ضرورت نہیں۔عقل کی مثال اس دنیا میں انسانی آنکھ سے دی جاسکتی ہے۔بینا ہونے کے لئے باہر کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔رات کو روشنی بند کرنے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو اگر چہ آنکھیں آپ کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھ نہیں سکتے۔اگر الہام کی روشنی نہ ہو تو عقل اندھیرے میں پڑ جاتی ہے۔پس ایسے اعمال اعمال صالحہ کہلائیں گے جو عقل کی روشنی مہیا کرنے کا موجب ہوں۔پھر مال تھوڑا بھی ملتا ہے اور بہت بھی۔اولا دا ایک دو تک بھی ہوتی ہے اور بعض معاشروں میں سولہ سترہ تک بھی ہوتی ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں بچے کی ضرورت نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بعض اعمال صالحہ سے اپنے آپ کو محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگ تربیت کے بوجھ سے آزا در ہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ ہوگا کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں۔دنیا کی ہر چیز ہمارے لئے ثواب اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔رہبانیت کی اسلام میں اجازت نہیں بلکہ جس قدر نعماء کی فراوانی ہوگی اسی قدر اعمالِ صالحہ بجالانے کے زیادہ مواقع ہوں گے۔مومن دنیا سے گھبرا تا نہیں ، دنیا سے بے زار نہیں۔