خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء ساڑھے تین بجے تک صرف دو گھنٹے سو سکا۔پھر ربوہ سے لاہور تک کا موٹر کا سفر تھا اس میں بڑی کوفت ہوئی۔پھر ہوائی جہاز کا سفر۔یہاں آتے ہی میں نماز پڑھانے کے لئے آ گیا ہوں۔اگلی رات بھی مجھے جاگنا پڑے گا لیکن اگر کوئی جماعتی کام آ گیا تو میں پھر اسی طرح بشاشت سے وہ کام کر رہا ہوں گا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لیکن اب میں محسوس کرتا ہوں کہ کام کی وجہ سے تھک جاتا ہوں۔میرے اوپر بہت زیادہ جماعتی کاموں کا بوجھ ہو تو جسم کوفت محسوس کرتا ہے۔میرا خیال تھا کہ میں وہاں جا کر پانچ سات دن آرام کروں گا۔اس کے بعد کام کریں گے۔جس طرح آپ کے دلوں میں نظامِ خلافت کا احترام ہے اسی طرح بیرونِ پاکستان کے احمدیوں کے دل میں بھی خلافت سے بہت پیار ہے۔وہ تو بیچارے میرے جانے پر مختلف کاموں کی وجہ سے تھکے ہوئے ہوتے ہیں مگر کام کئے جاتے ہیں۔دراصل خلافت ایک انسٹی ٹیوشن ہے۔ایک فرد نہیں ہے یہ وہ چیز ہے جس کے متعلق میں نے ڈنمارک کے پادریوں سے کہا تھا کہ تمہارا سوال غلط ہے۔انہوں نے پوچھا تھا آپ کا مقام جماعت احمدیہ میں کیا ہے؟ میں نے جواب دیا تھا میں اور جماعتِ احمد یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔اس واسطے میرا مقام جماعت احمدیہ میں کیا ہے یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔پس ہمارا ایک وجود ہے مثلاً میری انگلیوں پر چوٹ آئی ہو اور مجھے ان پر دوائی لگانی ہو تو میں رات بھر چوکس اور بیدار رہوں گا اور رات کو اُٹھ اٹھ کر دوائی لگاؤں گا تو جماعت احمد یہ جو خدا کے لئے کام کر رہی ہے اس کے لئے بھی میں رات کو بھی اٹھوں گا اور کام کروں گا۔مجھے یاد ہے ۴۷ء میں میں دو مہینے تک رات کو سو یا ہی نہیں تھا ورنہ عام طور پر میری عادت ہے کہ سات آٹھ گھنٹے نیند پوری کرلوں تو دماغ چوکس اور بیدار رہتا ہے۔بچپن سے یہی عادت رہی ہے لیکن جب کام پڑ جاتا ہے تو پھر یہ عادت چھوڑنی پڑتی ہے۔یہی حال ۴۷ء میں تھا جب کہ بہت کام در پیش تھا۔احباب جماعت کے لئے بہت کام کرنے پڑتے تھے۔اُن کی حفاظت کی تدبیریں کرنی پڑتی تھیں۔ان کے کھانے پینے اور پھر انہیں پاکستان بھجوانے کا انتظام اور اسی قسم کے دوسرے بہت کام تھے۔چنانچہ میں بلا مبالغہ کہہ رہا ہوں کہ میں دو مہینے تک نہیں سو یا۔اس معنی میں کہ اگر رات