خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 224
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۴ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء کہ لگا تار اور تسلسل کے ساتھ کسی جماعت کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن کر بڑھتے ہی چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ صرف وہی جماعت کامیاب ہوگی جو دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس کے مقابلہ میں جو جماعت گھٹتی چلی جاتی ہے، خواہ تھوڑا ہی فرق کیوں نہ ہو وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے اور اس کی ساری مخلوق میں کارفرما ہے۔اب فرض کر لیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ کے وقت دنیا کی دوارب کی آبادی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ غلبہ اسلام کی مہم کے اجرا کے لئے کھڑے ہو جاؤا اور دنیا میں اس بات کی منادی کرو کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے مبعوث کیا ہے اور میری جماعت میں شامل ہو جاؤ تا کہ ہم اکٹھے ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ قربانیاں دیتے ہوئے اس کی بے شمار رحمتوں کو جذب کرنے کے بعد اس مہم کو ( کہ اسلام دنیا میں غالب آئے ) کامیاب کریں۔اگر اس وقت دنیا میں کل دو ارب انسان تھے اور دعوی کرنے والا بہر حال ایک تھا تو کل آبادی میں احمدیوں کی نسبت ۲ ارب تھی۔پھر یہ تعداد بڑھنی شروع ہوئی اور اسی نسبت کے ساتھ غیر احمدی مسلمان بحیثیت مجموعی گھٹنے شروع ہوئے۔مسلمان چونکہ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اس لئے لفظ ” غیر احمدی بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔مثلاً آپ کہا کریں دیو بندی ہیں یا یہ کہا کریں بریلوی ہیں یا یہ کہا کریں کہ اہل حدیث ہیں یا یہ کہا کریں کہ شیعہ ہیں یا یہ کہا کریں کہ حنفی ہیں یا یہ کہا کریں کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں۔اس طرح یہ چھوٹے چھوٹے گروہ بن جاتے ہیں۔مگر آپ اپنے مخالف کو ایک نام دے کر اس کی تعداد کو غیر فطری طور پر بڑھا دیتے ہیں پس یا درکھنا چاہیے کہ جماعت کا مخالف غیر احمدی نہیں ہے بلکہ جماعت کا مخالف یا تو دیو بندی ہے یا بریلوی ہے یا اہل حدیث ہے یا شیعہ ہے یا جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والا ہے گویا اسی طرح اُمت مسلمہ ۷۳ فرقوں میں بٹی ہوئی ہے۔وہ سب علیحدہ علیحدہ طور پر آپ کے مخالف ہیں کچھ تھوڑے مخالف ہیں اور کچھ زیادہ ، سب کو اکٹھا کر کے ایک گٹھڑی میں باندھ دینا درست نہیں ہے۔اس کا خیال رکھنا چاہیے۔تاہم میں اس وقت نوع انسانی کو لے رہا ہوں۔پہلے دن ایک اور دوارب کی نسبت تھی اور آج میرے اندازہ کے مطابق دنیا میں احمدیوں کی تعداد ایک کروڑ تک