خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 223
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۳ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء آپ کے سوا اور کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے ان چیزوں کے متعلق سوچا ہو اور اپنی قوم کو ہدایت دی ہو۔یہ شرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے نماز کی ادائیگی میں سہولت کے پیش نظر فرمایا: - جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا اگر یہ صحیح ہے اور ہمارے نزدیک یقیناً صحیح ہے تو پھر میری اور تیری مسجد میں نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے کا سوال باقی ہی نہیں رہتا سوائے اس کے کہ کوئی احمق یہ کہے کہ ساری زمین میری ہے۔جس نے نماز پڑھنی ہے وہ چاند میں جا کر نماز پڑھا کرے۔لیکن ایسے احمق لوگ شاید ہی ہوں ہماری نظر میں سے تو نہیں گذرے لیکن ایسے بیسیوں مقامات ہیں جہاں کے دیو بندی کہہ دیتے ہیں کہ بریلوی نماز نہ پڑھیں۔بریلوی کہہ دیتے ہیں کہ دیو بندی نماز نہ پڑھیں۔اب دیکھو ! ساری زمین کو جب خدا تعالیٰ نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اُمت محمدیہ کے لئے مسجد بنادیا ہے۔تو پھر اگر ہم عقل سے کام لیں تو یہ سارے جھگڑے ختم ہو جانے چاہئیں لیکن اس کے باوجود یہ جھگڑے امت میں باقی ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔دوسرے یہ بھی فائدہ ہے کہ اس ارشاد نبوی کے پیش نظر اس قسم کے ہال کی ان گیلریوں کی اور ان پر رنگ و روغن وغیرہ کے سلسلہ میں رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ہر شخص اپنے ساتھ کوئی کپڑا یا چادر لا سکتا ہے۔جسے بچھا کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔تاہم صفیں درست ہونی چاہئیں۔صفوں کی درستی کے متعلق ہمیں حکم ہے لیکن نماز پڑھتے وقت جبین نیاز سطح زمین پر مٹی پر ہو یا کپڑے پر ہو یا قالین پر ہو اس کے متعلق کوئی ہدایت اور حکم نہیں ہے۔غرض خدا تعالیٰ کے حضور ہم نے بہر حال عاجزانہ طور پر جھکنا ہے اور اس کے لئے شرائط نہ ہیں اور نہ لگائی جا سکتی ہیں البتہ کھلی اور پاک زمین ہونی چاہیے۔اور اس کا جلد انتظام ہونا چاہیے۔یہ جو آہستہ آہستہ چلنے کا رواج مجھے بعض جگہ نظر آنے لگ گیا ہے یہ طریق ٹھیک نہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ابھی میں مسجد کا ذکر کر رہا تھا تو میری توجہ اس طرف پھری اور میں نے سوچا کہ قرآن کریم نے یہ کتنے پتے کی بات کہی ہے۔أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ۔(الانبياء : ۴۵)