خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 222

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء وہ یہ کہ یہاں کی انتظامیہ (امیر صاحب اور اُن کے ساتھی ) ایسی جگہ کے حصول میں سستی دکھاتے رہے ہیں جہاں کراچی کے سب احمدی احباب اکٹھے ہو کر سہولت کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرسکیں۔خصوصاً جب خلیفہ وقت یہاں دورے پر آئیں، تو اُس وقت قطع نظر اس بات کے کہ بعض محلوں اور سوسائٹیز وغیرہ میں علیحدہ نماز جمعہ کی اجازت دی جاتی ہے مگر وہاں کے سبھی احباب یہ چاہتے ہیں کہ سب لوگ ایک جگہ نماز ادا کریں۔اس اجتماع کی اہمیت کو میرے نزدیک جماعت کراچی کی انتظامیہ نے سمجھا نہیں اور کسی ایسی جگہ کا انتظام نہیں کیا جہاں ہم سب اکٹھے ہو کر ایک دوسرے سے مل سکتے ہوں۔اگر چہ جمعہ کے اجتماع میں اس قسم کی ملاقات تو نہیں ہوتی۔جس سے دل سیر ہو جاتے ہیں۔احباب مجھے دیکھ رہے ہوں اور میں اُن کے چہروں پر ایمانی بشاشت کو محسوس کر رہا ہوں۔اس وقت بھی مردوں کا ایک بڑا حصہ اس ہال سے باہر سڑکوں پر بیٹھا ہوا ہے یا ساتھ کی عمارت کے کمروں میں بیٹھا ہوا ہے ( پتہ نہیں وہ کس کی عمارت ہے )۔موجودہ صورت میں ہم ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔میں اب آتے ہوئے احباب کی ایک جھلک ہی دیکھ سکا ہوں بعض کی تو جھلک بھی نہیں دیکھ پاتا۔غرض کسی وسیع جگہ کے حصول کی طرف بہر حال زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تھی اور اب میں کہوں گا زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ جب میں واپسی پر یہاں جمعہ پڑھاؤں تو آپ اس وقت تک کسی وسیع جگہ کا انتظام کر چھوڑیں کیونکہ باہر کا تو چند ہفتے کا پروگرام ہے۔اتنے عرصہ میں تو اس کا انتظام ممکن نہیں لیکن ایک سال کے اندراندر تو اس کا انتظام ہو جانا چاہیے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ نو مہینے کا عرصہ کافی ہے۔اس لئے میں آپ کو نو ماہ کی مہلت دیتا ہوں اس عرصہ میں کم از کم زمین خرید لینی چاہیے۔ہم کھلے میدان میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔نماز جمعہ کے لئے چھت کی ، گیلریوں کی ، کمروں کی اور اس چیز کی اور اس چیز کی ضرورت نہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنایا ہے۔اس میں بڑی حکمت کی بات کہی گئی ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو سزاوار ہے۔