خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء لیکن کچھ قانونی کام کرنے باقی ہیں۔پھر اب یہ اطلاع ملی ہے کہ باقاعدہ منظوری کے بعد دستاویز ہائیکورٹ میں رجسٹر ہو گئی ہے گو اس میں انہوں نے ایک شرط تو لگائی ہے اور وہ شرط یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے اس کا کچھ بھی نہیں لیا یا اگر کچھ لیا ہے تو وہ بھی برائے نام ہے یوں سمجھیں کہ بالکل مفت ملی ہے لیکن وہ شرط ہے بالکل جائز۔شرط یہ ہے کہ جن مقاصد کے لئے زمین دی گئی ہے اگر جماعت احمد یہ اس کا استعمال نہ کرے یا نہ کرنا چاہے یا نہ کرسکتی ہو تو وہ اس زمین کو بیچ نہیں سکتی بلکہ یہ حکومت کو واپس چلی جائے گی۔یہ شرط معقول ہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ تو سوا یکڑ ہیں۔ہمیں تو انشاء اللہ اگلے دس پندرہ سال میں وہاں کے لئے معلوم نہیں مزید کتنے سینکڑے ایکڑ زمین کی ضرورت ہوگی۔غرض لائبیریا میں زمین مل گئی ہے اس زمین کو جلد استعمال میں لانے کے لئے ایک تو فوری طور پر وہاں ایک سکول کھلنا چاہیے دوسرے ہسپتال کھولنے کے لئے ایک ڈاکٹر جانا چاہیے تیسرے سکول اور ہسپتال کی عمارتوں پر رقم خرچ کرنی پڑے گی شروع میں میرا خیال ہے کہ شاید آٹھ دس ہزار پاؤنڈ (قریباً ۲ لاکھ ۷۰ ہزار روپے) کی رقم درکار ہے۔بعد میں تو مزید اخراجات بھی ہوتے ہیں جو بہر حال کرنے پڑتے ہیں یہ دس ہزار پاؤنڈ بھی بڑی رقم ہے خصوصاً آج کل کے حالات میں جب کہ زرمبادلہ کی پاکستان میں کمی ہے۔اس لئے یہاں سے تو یہ رقم بھجوا ناسر دست مشکل ہے ہمیں ملک پر بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔یہ بوجھ تو انشاء اللہ بیرونِ پاکستان کی جماعتیں اٹھالیں گی۔(انگلستان نے نصرت جہاں ریزروفنڈ میں ۵۲ ہزار پاؤنڈ کے وعدے کئے تھے ان کی طرف سے ۳۵ ہزار پاؤنڈ سے زائد ادا ئیگی ہو چکی ہے بقیہ رقم بھی وہ جلد ادا کر دیں گے یہ کوئی ایسی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ خودا اپنے فضل سے پیسوں کا انتظام کرتا ہے اب لائبیریا کے سکول اور ہسپتال کے لئے بھی کر دے گا۔بہر حال یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایک نئے ملک میں ایک چھوٹے کالج (جو بعد میں کسی وقت بڑا بھی ہو سکتا ہے ) اور ایک بڑے ہسپتال کے لئے ایک سوا یکڑ زمین دے دی ہے۔جماعت کو اپنے رب کریم کی کثرت سے حمد کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کا پیار