خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء ہمارے لئے اور زیادہ جوش میں آئے اور زیادہ حسین پیرایہ میں جلوہ گر ہو۔ہم ہر آن اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے مور د ٹھہریں۔اللہ تعالیٰ کا ہر چھوٹا اور بڑا فضل انسان پر ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے یوں ویسے اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل چھوٹا تو نہیں ہوتا البتہ نسبتی لحاظ سے اپنی ہی دینی حالت اور ذمہ داری کے مقابلہ میں ہم کسی کو چھوٹا اور کسی کو بڑا کہہ دیتے ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔۱۰۰ یکٹر زمین مل گئی۔لیکن اس فضل کے ساتھ ہی جماعت پر یہ ذمہ داری بھی آپڑی ہے کہ جماعتیں ڈاکٹر مہتا کریں۔اساتذہ دیں اور اخراجات کے لئے رقم فراہم کریں جب آپ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے یہ انتظام کر لیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑا فضل نازل فرمائے گا۔ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہر آن زیادہ شدت کے ساتھ نازل ہورہے ہیں جس وقت خدا تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کو لائبیریا میں سکول اور ہسپتال کے لئے عمارتیں بنانے اور اساتذہ اور ڈاکٹر بھجوانے کی توفیق عطا فرمائے گا تو پھر آپ کی ذمہ داری اور بڑھ جائے گی۔ان لوگوں کی تربیت کرنے اور ان سے پیار کرنے کی ذمہ داری بہت بڑھ جائے گی۔وہ قو میں پیار کی بھوکی ہیں آپ کو اسی حسین قول اور شیریں گفتار کے ساتھ ان سے پیش آنا پڑے گا جس طرح کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کے ساتھ اُلفت اور اخوت کی تعلیم دی اور خود اس پر چل کر دکھایا تھا۔بنی نوع انسان کے دل جیتنے کی ذمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور بنی نوع انسان سے اُلفت اور اخوت کا کوئی موقع رائیگاں نہ جانے دیں۔یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل چلتا رہے گا اور اس میں سعت پیدا ہوتی رہے گی۔اس لئے آئندہ نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے یہ بڑا اہم کام ہے آئندہ نسل کی تعلیم و تربیت کی ضرورت دن بدن بڑھ رہی ہے کیونکہ ہرنسل تعداد میں پہلے سے زیادہ ہوتی ہے خدا تعالیٰ کا یہی قانون چل رہا ہے اس لئے جہاں جماعت احمدیہ پر ہر آن اللہ کا فضل نازل ہو رہا ہے وہاں ہر فضل پہلے سے زیادہ ذمہ داریاں بھی ڈالتا ہے اور ساتھ ہی پہلے سے بڑھ کر الہی فضلوں کو جذب کرنے کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اسی