خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 209

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء زمین عطیہ کے طور پر یا برائے نام قیمت پر دے دی ہے۔الْحَمدُ لِلهِ عَلَى ذلِكَ - اب یہ روک تو دور ہوگئی ہے۔انشاء اللہ وہاں سکول کی عمارت بھی بن جائے گی اور با قاعدہ سکول بھی بن جائے گا۔جب سکولوں کو حکومت کی طرف سے امدا د ملنی شروع ہو جائے تو پھر سکولوں کے اخراجات کا بوجھ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے لیکن جب تک امداد نہ ملے ان کا سارا بوجھ جماعت کو اٹھا نا پڑتا ہے۔ظاہر ہے سکول چلانا کوئی معمولی بات نہیں اس پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔ہم نے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہوتا ہے۔وہی ہمیں دیتا ہے اور کہتا ہے خرچ کرو یعنی خود ہی دیتا ہے اور خود ہی خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور ہمیں ثواب دے دیتا ہے۔ہم اس کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے بڑے ممنونیت اور حمد سے بھرے ہوئے جذبات رکھتے ہیں۔پس ایک تو یہ فضل ہے جس کا ذکر میں آج اس خطبہ میں کرنا چاہتا تھا تا کہ یہ بات جماعت کے علم میں آجائے اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ تحمید اور تسبیح کرنے والے بن جائیں۔دوسری خوشخبری جس کا میں اس وقت ذکر کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ۱۹۷۰ء میں جب میں مغربی افریقہ کے دورہ پر گیا تو لائبیریا میں پریذیڈنٹ ٹب مین صاحب سے بھی میری ملاقات ہوئی۔ہمارے مبلغ نے گوان سے یہ تو کہا تھا کہ حضرت صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں آپ اس موقع پر ہمارے مشن ہاؤس اور ہسپتال وغیرہ کے لئے ہمیں ایک سوا ایکڑ زمین کا تحفہ دیں لیکن ان سے یہ نہیں کہا گیا تھا اور نہ خواہش کی گئی تھی نہ ہمارا خیال تھا اور نہ ایسا خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ وہ جو استقبالیہ دعوت دیں گے اس میں اس کا اعلان بھی کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے ہمیں جو استقبالیہ دیا جس میں سب وزراء اور بڑے بڑے افسر اور دیگر صاحب اثر ورسوخ شہری بھی شامل تھے۔اس میں انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اچانک یہ اعلان بھی کر دیا کہ میں نے جماعت احمدیہ کو سوا پکڑ زمین دینے کا وعدہ کیا ہے اس موقع پر ان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوئی اور اس کا انہوں نے اظہار کر دیا۔میں سمجھتا ہوں اس میں ضرور کوئی خدائی حکمت تھی کیونکہ بعد میں جو حالات پیدا ہوئے ان سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ بڑا اچھا ہوا بھری محفل میں حکومت کے سب ذمہ دار افراد کی موجودگی میں ان کے پریذیڈنٹ کی طرف سے یہ اعلان ہو گیا کہ میں نے امام جماعتِ احمد یہ کو