خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 208

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء کی بشارتوں کے مطابق اپنے زمانہ میں مجدد بن کر آئے تھے ان کی وفات غالباً ۱۸۱۸ء میں ہوئی یہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے پہلی صدی کے مجد د ہیں۔نائیجیریا کے شمالی علاقوں میں ان کی نسل صاحب اثر ورسوخ ہے۔اکثر لوگ انہی کے ماننے والے اس علاقہ میں پائے جاتے ہیں۔یہ علاقہ ایک عرصہ تک ہم پر بند رہا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کے دروازے ہمارے لئے کھول دیئے۔کا نو میں ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نے بڑی محنت کی اور قربانی دی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ذریعہ وہاں ایک کامیاب ہسپتال جاری ہو گیا پھر وہیں ایک سکول بھی کھل گیا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔کا نو کے مغرب میں سکو تو کا صوبہ ہے جہاں حضرت عثمان بن فودی علیہ الرحمہ کے بڑے بیٹے کی نسل آباد ہے اور مذہبی اثر ورسوخ اور سیاسی اقتدار کی مالک ہے۔کانو کا علاقہ ان کے چھوٹے بیٹے کو ملا تھا۔حضرت عثمان بن فودی علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں ہی حصے بانٹ دیئے تھے چنانچہ کا نو کا علاقہ ان کے چھوٹے بیٹے کے حصہ میں آیا تھا۔اس علاقہ میں جب ہمارا ہسپتال اور سکول کھل گیا تو وہاں کے افسروں کا ایک حصہ تو ہمارے ساتھ بڑا تعلق رکھنے لگا لیکن تبلیغ و اشاعت کے دروازے کھلنے کی وجہ سے بعض افسروں کی طرف سے بڑی مخالفت رہی اور اب بھی ہے۔مخالفت سے ہم ڈرتے نہیں کیونکہ یہ تو دراصل ہماری ترقی کے لئے بہت ضروری ہے چنانچہ کا نو میں سکول تو کھل گیا لیکن حکومت اس کو مالی امداد دینے کے لئے ایک باقاعدہ سکول کے طور پر ابھی تک تسلیم نہیں کر رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ گو ہم نے تمہیں سکول کھولنے کی اجازت تو دے رکھی ہے اور تمہارا سکول عملاً کام بھی کر رہا ہے لیکن تمہارے پاس نہ اپنی زمین ہے اور نہ اپنی عمارت۔تم کرایہ کی ایک عمارت میں کام کر رہے ہو ہم اسے باقاعدہ سکول سمجھ کر کیسے مدد دینی شروع کر دیں۔تاہم وہ افسر جو ہم سے اچھا تعلق رکھتے تھے وہ ہمارے سکول کے لئے مالی امداد کے حصول کی برابر کوششیں کرتے رہے اور ادھر مخالفین بھی اپنی مخالفت میں لگے ہوئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا ابھی تھوڑا عرصہ ہوا وہاں سے یہ اطلاع ملی ہے کہ حکومت نے ہمارے اس سکول کے لئے دس ایکٹر