خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 2
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء کچھ نہ کچھ پیش کرتا ہے ان شکلوں میں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے :۔اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكرا (سبا: ۱۴) فرما یا شکر گذاری کے ساتھ عمل کرو گویا شکر جذبات سے دل کو معمور کرنے کا یہاں ذکر نہیں یا زبان سے شنا کرنے کا یہاں ذکر نہیں یا انسان جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار تسبیح و تحمید کرتے ہیں اس کا یہاں ذکر نہیں بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اپنے عمل سے شکر ادا کرو۔اسی لئے عربی کی لغت میں جوارح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے معنے بھی کئے گئے ہیں یعنی وہ تمام طاقتیں جو انسان کو دی گئی ہیں ، ان کو ایسے رنگ میں استعمال میں لایا جائے کہ وہ گویا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا متصور ہو۔جب تک عملاً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کیا جائے اُس وقت تک انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھانا ہی شکر نہیں ہوتا یا الْحَمدُ لِلہ کہ کر کھا ناختم کرنا ہی شکر نہیں ہوتا بلکہ کھانا کھانا خود ادائے شکر کے مترادف ہے کیونکہ اسلام میں بھوکا رہ کر خودکشی کی اجازت نہیں دی گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اے انسان! تیرے نفس کے بھی تجھ پر کچھ حقوق ہیں۔اسلئے جہاں حق قائم ہوتا ہے۔جہاں حق کی ادائیگی کی طاقت عطا کی جاتی ہے وہاں حق کو خدائے قادر و توانا کی منشا اور اس کی ہدایت کے مطابق ادا کرنا اُن ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں ،شکر ہے۔غرض جب تک عملی شکر نہ ہو کامیابی نہیں ملتی مثلاً ایک ذہین بچہ ہے وہ اگر اپنی خدا داد ذہانت کے شکریہ کے طور پر اُس کا صحیح استعمال نہیں کرتا یا وہ اپنے اوقات کو ضائع کر دیتا ہے اور اپنی توجہ کو مطالعہ اور حصول علم پر قائم نہیں رکھتا تو وہ ناشکرا اور ناکام ہوتا ہے پس ناشکری ہمیں ناکامی کی وجہ بتاتی ہے۔جہاں آپ کو ناشکری نظر آئے گی وہاں آپ کو نا کا می نظر آئے گی۔اس لئے کہ کامیابی کے لئے اس معنی میں جس کی میں نے ابھی وضاحت کی ہے شکر گزار بندہ بننا ضروری ہے۔میری اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں اس مرکزی اور بنیادی نکتہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری جماعت میں ایک گروہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے انعامات کو زیادہ اور نمایاں طور پر حاصل کر رہا ہے اور وہ موصیان کا گروہ ہے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا