خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 161

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۱ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء کرنی ہیں۔ہم نے ان کو اس مقام تک لانا ہے جو اشرف المخلوقات کی حیثیت سے انسان کا مقام ہے اور یہ انشاء اللہ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ خدا کا وعدہ ہے یہ خدا کا فیصلہ ہے یہ تو ضرور پورا ہوکر رہے گا اس کے خلاف غیر اللہ کی جو آوازیں آئیں ہمیں ان کی کوئی پروانہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان لوگوں کی زبانوں سے نکلتی ہیں جو ہمارے نزدیک حقیقی معنوں میں عبادت نہیں کرتے ان کی آنکھوں میں محبت الہی کے انوار کا فقدان ہے اُن کے کان اپنے رب کے پیار کی آواز سُننے کے قابل نہیں اور اُن کے ناک اپنے ربّ کے پیار کی خوشبو سونگھنے کے قابل نہیں اگر ایسے لوگ حقارت کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیں ان کی کیا پروا ہے؟ پس تم دعائیں کرو یہ تمہارا کام ہے اور پیار سے دنیا کے دل جیتنے کی انتہائی کوشش کرتے چلے جاؤ کہ یہی تمہیں خدا کا حکم ہے اور جب تم (اور یقینا تم ) اپنے رب کے پیار کو اپنے اندر جذب کر لو گے تو پھر دنیا کی ساری چیزیں بیچ ہیں اُن سے خوف کھانا تو درکنار رہا وہ اس قابل بھی نہیں کہ اُن کا ذکر کیا جائے۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک آدھ استثناء کے سوا ساری اخباروں نے اس جھوٹی خبر کو شائع کیا ہے اور ملک کے کونے کونے میں پہنچایا ہے جس پر احمدی دوستوں نے سوچا کہ ہمیں مرکز سے ہدایت لینی چاہیے کہ ہمارا رد عمل کیا ہو؟ چنانچہ یہی بتانے کے لئے باوجود بیماری کے میں یہاں آ گیا۔میرا خیال ہے کہ میں نے ایک احمدی کا جو صحیح مقام ہے وہ آپ کو سمجھا دیا ہے۔آپ دعائیں کریں اور اس مقام پر مضبوطی سے قائم رہیں کیونکہ ہمارے لئے جو وعدے ہیں اور ہمیں جو بشارتیں ملی ہیں وہ اس شرط کے ساتھ ملی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جس مقام پر سرفراز فرمایا ہے اس کو بُھولنا نہیں اور اس کو چھوڑنا نہیں۔خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتے رہنا ہے۔اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھنا بے لوث خدمت میں آگے رہنا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے اور جب دنیا پیار کو کلی طور پر قبول کرنے سے انکار کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو یا درکھنا کہ اٹھو! نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔“