خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 158

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۸ خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۷۳ء ہے کہ پیار کے ساتھ میرے بندوں کا دل جیتو ، تم اس قسم کے خیالات بھی اپنے دماغوں میں نہ لاؤ کیونکہ گیدڑ بھبکیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرتیں البتہ ہمارے دل میں گدگدی ضرور پیدا کرتی ہیں۔ہمارے چہروں پر مسکراہٹ ضرور آجاتی ہے کہ یہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں لیکن اگر خدانخواستہ تم فتنہ وفساد کو اس ملک میں اس حد تک پھیلانے میں کامیاب ہو گئے (ہماری دعا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات نہیں پیدا ہونے دے گالیکن اگر کے ساتھ میں بات کر رہا ہوں ) اور حکومت وقت اس عظیم مملکت کے شہریوں کی حفاظت کرنے کے قابل نہ رہی تو پھر جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں جب احمدی کے سامنے اپنی جان و مال کی حفاظت اور بالخصوص غلبۂ اسلام کی مہم کی حفاظت کا سوال پیدا ہوا تو اُس دن تمہارے بڑے بھی اور تمہارے چھوٹے بھی تمہارے مرد بھی اور تمہاری عورتیں بھی یہ مشاہدہ کریں گی کہ تمہارے دل میں اس دنیا کی زندگی اور اس کے عیش و آرام سے جو محبت ہے اس سے کہیں زیادہ ہمیں خدا کی راہ میں جان دینے سے محبت ہے۔باقی رہا یہ کہ دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان حالات میں ہم کیا کریں؟ میں آپ سے کہوں گا پہلے سے زیادہ دعائیں کریں۔آپ پوچھتے ہیں کہ ان حالات میں ہم کیا کریں میں کہوں گا کہ جس خدا پر تم نے بھروسہ کیا ہے وہ قادر و توانا خدا ہے۔اس نے تمہاری اتنی سالہ زندگی میں کبھی بے وفائی نہیں کی۔اب بھی بے وفائی نہیں کرے گا کیونکہ وہ بچے وعدوں والا ہے۔تم اس کے وفا دار بندے بنے رہو اور اپنی زندگی کے ہر لمحہ یہ ثابت کرتے رہو کہ تم اس کے وفادار بندے ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے سایہ میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ گے۔دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے منشا کو نا کام نہیں کر سکتی خدا نے احمدیت کے ذریعہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔آسمانوں پر خدا کا یہ فیصلہ ہے اور زمین پر جاری ہو چکا ہے۔جماعت احمدیہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی توحید اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ساری دنیا پر غالب آئے گا خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے جس طرح ہم دیکھتے ہیں اسی طرح دنیا کے تمام ممالک اور اقوام بھی دیکھیں گی۔خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے یہ تو ضرور پورا ہوگا البتہ جماعت احمدیہ کو قربانیاں دینی پڑیں گی بعض افراد کو شاید جان کی قربانی دینی پڑے بعض کو مال کی قربانی دینی