خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 156

خطبات ناصر جلد پنجم ܪܩܙ خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۷۳ء تمہیں خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کیسے حاصل ہو جائے گی لیکن ہم فساد سے کتراتے ہیں۔ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں سمجھتے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت وقت کا کام ہے کہ وہ ہمارے مخالفوں کی جان و مال کی پوری حفاظت کرے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ایک احمدی کی جان و مال کی بھی حفاظت کرے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے جو حقوق قائم کیے ہیں ہر انسان خواہ وہ مفتی محمود ہو یا ابوالاعلیٰ مودودی ہو یا میاں طفیل محمد ہو یا ایک احمدی ہو اُن کا مستحق ہے اور حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کا حق ادا کرے اور اس کی جان و مال کی حفاظت کرے لیکن اگر تم خود خدا تعالیٰ کا باغی بن کر خدا کی اس دنیا میں فساد پیدا کرنا چاہو گے تو اللہ تعالیٰ کا پیار تمہیں حاصل نہیں ہوگا اور جب اللہ تعالیٰ کا پیار تمہیں حاصل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت اور معجزانہ قدرت نمائی کے نشان تم کیسے دیکھو گے لیکن ہم انتہائی عاجزی اور انکساری کے باوجود اور اس لئے کہ ہم کلی طور پر عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والے ہیں ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے ہم ان معاملات کو خدا پر چھوڑتے ہیں ہم اُسی وقت خود حفاظتی کے کام کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں جس وقت صحابہ کے قول کے مطابق حاکم وقت نہ رہے دنیا میں قانون نہ رہے، انار کی پیدا ہو جائے ، افراتفری پھیل جائے۔خدا نہ کرے کہ یہ وقت ہمارے ملک کو دیکھنا نصیب ہولیکن اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ کہنے والے نے سچ کہا تھا۔جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار ونزار لومڑی کا لبادہ اوڑھ کر اور گیدڑ کا لباس پہن کر باہر نکلتے ہوا اور چیختے اور چنگھاڑتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم تم سے مرعوب ہو جائیں گے ہمیں تو خدا تعالیٰ نے شیر کی جرات سے بڑھ کر جرات عطا فرمائی ہے ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے شیر کے رعب سے زیادہ رعب عطا فرمایا ہے شیر کی دھاڑ سے میلوں تک بُزدل جانور کانپ اُٹھتے ہیں۔ہمیں تو یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ۔یعنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص فدائیوں اور جان شاروں کا ایک ماہ کی مسافت تک رعب طاری ہوگا۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے بے لوث خدمت کی توفیق عطا فرمائی