خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 150

خطبات ناصر جلد پنجم ܙ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اور اس کے نزدیک تم مسلمان ہو اور اس نے پہلے انبیاء علیہم السلام کو بھی یہ خبر دی تھی کہ اُمتِ مسلمہ پیدا ہونے والی ہے۔چنانچہ پہلوں نے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور قرآنِ کریم نے بھی تمہارا نام مسلمان اور مومن رکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آنا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) اور أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) کے الفاظ کہلوائے اس کا مطلب یہی ہے کہ اُمت محمدیہ مسلمین مومنین کی اُمت ہے۔اس آیہ کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ تمہیں مسلمان قرار دیتا ہے اور تمہارے اسلام کا اعلان کرتا ہے اس لئے کہ تم نمازیں پڑھتے ہو، تم زکوۃ دیتے ہو۔تم اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق رکھتے ہو۔تم اس بات پر یقین کے ساتھ قائم ہو کہ خدا تعالیٰ سے جب تمہارا پختہ تعلق قائم ہو جائے تو پھر تمہیں کسی اور ہستی کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ هُوَ مَوْلَكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - (الحج: ۷۹) پس اب سوال یہ نہیں پیدا ہوتا کہ زید یا بکر مجھے یا تمہیں کا فر کہتا ہے یا مسلمان؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن شرائط کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے افراد کو مسلمان قرار دیا ہے اور اُن کے اسلام کا اعلان کیا ہے وہ شرائط تمہاری زندگیوں میں پوری ہو رہی ہیں یا نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آج احمدیوں کی بہت بھاری اکثریت ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔چند ایک ہیں جو منافق ہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔چند ایک ہیں جو کمز ور ایمان والے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ احمدیوں کی بہت بھاری اکثریت ایمان کے جملہ تقاضوں کو پورا کرنے والی ہے اور وہ اپنے رب سے پیار کرنے والی ہے اس کے دامن کو اس طرح پکڑ رکھا ہے کہ گویا ایک لحظہ کے لئے بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے پس جماعتِ احمدیہ کی یہ اکثریت جنہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے نبیوں کی زبان سے مسلمان قرار دیا اور قرآنِ کریم میں ان کے اسلام کا اعلان فرمایا ان کو آزاد کشمیر کی اسمبلی یا ساری دنیا کے علمائے ظاہر غیر مسلم کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ گویا خدا تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف