خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 134
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۴ خطبه جمعه ۲۰ ۱٫ پریل ۱۹۷۳ء مال کا تیسرا حصہ بھی وصیت میں دے دے تب بھی عند اللہ موصی نہیں رہے گا۔اس کی بہت ساری مثالیں ہیں کئی ایسے لوگ بھی ہیں کہ جب ان میں سے کسی کی وصیت کسی خلاف شریعت فعل کے نتیجہ میں منسوخ ہو جاتی ہے تو وہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے مثلاً پانچ سو یادو ہزار یا پانچ ہزار روپے وصیت کا چندہ دیا ہے وہ انہیں واپس کر دیا جائے۔چنانچہ ایسی صورت میں صدر انجمن احمدیہ نے ( میں بھی بطور صدر۔صدر انجمن احمد یہ کام کرتا رہا ہوں ) یہ طریق اختیار کر رکھا ہے کہ ہم ان کو کہتے تو یہی ہیں کہ تمہارا قانونا کوئی حق نہیں ہے تم جو دے چکے ہو وہ دے چکے ہو لیکن ہماری طبیعت یہ گوارا نہیں کرتی کہ تمہارے جیسے آدمی کا پیسہ ہمارے اموال کے اندر باقی رہے اس لئے تمہارا پیسہ واپس کر رہے ہیں وگرنہ دنیا کا کوئی قانون تمہیں وہ پیسہ واپس نہیں دلا سکتا لیکن جماعت احمدیہ کی جو روح ہے یعنی جو حقیقی اسلامی روح ہے وہ یہ برداشت نہیں کرتی کہ ایک شخص اسلام کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرے اور شریعت اسلامیہ کا باغی بھی ہو اور اس کا پیسہ ہمارے مال میں ملا ہوا ہو۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ لے جاؤ اپنا پیسہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے نتیجہ میں جماعت غریب تو نہیں ہو گئی پانچ سات سال میری خلافت کا مختصر زمانہ ہے اس میں جماعت کی مالی قربانی کہیں سے کہیں پہنچ گئی خدا تعالیٰ نے بہت زیادہ دیا وہ اب بھی دیتا ہے اور دیتا چلا جاتا ہے۔اس کے خزانے تو کبھی خالی نہیں ہوتے۔غرض جہاں تک جماعت کی مالی قربانیوں کا تعلق ہے اس کا ایک حصہ ہم وصیت کی شکل میں یا چندہ عام کی صورت میں ادا کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ۹۹۹۹۹ ایسے افرادِ جماعت ہیں کہ جب ان میں چند لوگ غفلت کر جائیں گے تو ذکر “ کے الہی حکم کے ماتحت جب ان کو یاد دہانی کرائی جائے گی تو وہ بیدار ہوں گے اور اپنے اپنے حصہ کا بجٹ پورا کر دیں گے۔پچھلے سال بھی جب اسی طرح آخری دنوں میں بعض جماعتوں کو اپنے اپنے بجٹ پورے کرنے کی تحریک کی گئی تو ہمارے ایک زمیندار دوست جنہوں نے اپنے چندہ کی ادائیگی میں سستی دکھائی تھی جب میری آواز الفضل کے ذریعے یا کسی مبلغ کے ذریعہ ان کے کان تک پہنچی تو انہوں