خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 117

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۷ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء ملک دستور باہمی تعلقات کو متعین کرنے اور مستحکم کر دینے کا ذریعہ ہوتا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد وتعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گذشتہ ربع صدی میں پاکستان کو بہت سی پریشانیوں میں سے گذرنا پڑا۔قیام پاکستان کے ایک سال بعد بائی پاکستان قائد اعظم کی وفات ہو گئی۔ان کے ذہن میں پاکستان کے لئے جو دستور تھا وہ قوم کو نہ دے سکے۔پھر ملک کو بعض دوسری پریشانیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔پھر مارشل لاء لگا ، جس کے متعلق بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی ذمہ داری فوج پر ہے اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے لیکن اس کی اصل ذمہ داری تو ان لوگوں پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے کہ فوج کو مارشل لاء لگانا پڑا۔بہر حال مارشل لاء کا زمانہ بھی پریشانیوں پر منتج ہوا۔اس کی تفصیل میں جانے کا نہ یہ وقت ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔مارشل لاء کے زمانہ میں بھی کچھ قوانین تو ہوتے ہیں جن کے تحت حکومت کی جاتی ہے۔تا ہم ان قوانین کا دستور نہ کہا جاتا ہے، نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ حقیقہ ایسا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے قوم گو یا دستور کے میدان میں پچھلے ۲۵ سال بھٹکتی رہی ہے۔چنانچہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ قوم کو ایک دستور مل گیا۔ہم خوش ہیں اور ہمارے دل