خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 105 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 105

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۰۵ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء فرمائی:۔بہتر مشورہ وہی ہے جو حقوق العباد کی ادائیگی اور اصلاح معاشرہ کا موجب ہو خطبه جمعه فرموده ۶ را پر میل ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیہ کریمہ کی تلاوت لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ نَجُوهُهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاج بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا - (النساء : ۱۱۵) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ باہمی مشورے بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ مشورے ہیں جو انسان کی بہتری اور بھلائی اور نیکی کے لئے ہوتے ہیں۔ایسے مشورے خیر پر منتج ہوتے ہیں دوسرے وہ مشورے ہیں جن کے نتیجہ میں بنیادی طور پر حقائق مختلف ہوتے ہیں اور ان سے خوشحالی پیدا نہیں ہوتی تاہم جو مشورے خیر کے ہیں اور بھلائی کے ہیں انسان کی بہتری اور خوش حالی کے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کے بیان کے مطابق تین قسم کے ہوتے ہیں۔