خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 99

خطبات ناصر جلد پنجم ۹۹ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء جو شخص ساتویں آسمان پر پہنچ گیا وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے۔آپ سے نیچے ہے بعد نہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی قرب اور آپ کے قدموں کی خاک میں بیٹھنا میرے لئے فخر کا موجب ہے۔وہ آپ کے احترام کے منافی کس طرح بات کرنے والا سمجھا جا سکتا ہے۔وہ تو آپ کے پیار میں گم ہے اس کی روح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیوست ہے۔وہ تو آپ پر ہر آن فدا ہوتا رہا اور عاجزی سے خدمتِ اسلام کے کاموں میں لگا رہا۔اس کے وجود میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کار فرما رہی۔اس کی قائم کردہ جماعت آج بھی اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے اس طرح چنا جس طرح پہلے لوگوں کو چنا تھا تا کہ وہ خواب جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دکھائی گئی تھی وہ دوبارہ پوری ہو۔دنیا پھر فدائیت اور جاں نثاری کے نمونے دیکھے۔جس طرح پہلے اسلام معروف دنیا پر غالب آیا تھا اب پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن جاں نثاروں کی قربانیوں اور جاں شاری کے نتیجہ میں اسلام ساری معروف دنیا پر غالب آئے ساری دنیا پر۔پس یہ وہ مقصد ہے جس کے لئے میں اور آپ پیدا کئے گئے ہیں باقی کسی کو مومن کہنا اور کسی کو کافر کہنا یہ دو طرح کا ہوتا ہے جس شخص نے اپنا ایمان کسی انسان مثلاً زید کے فتوے کے نتیجہ میں حاصل کیا ہو اس شخص کا ایمان اسی شخص کے کفر کے نتیجہ میں زائل ہو سکتا ہے اور ہو جانا چاہیے کیونکہ اس زید نے اس کو مومن کہا ہے۔اگر زید بکر کو مومن کہتا ہے اور بکر کہتا ہے کہ مجھے چونکہ زید نے مومن کہا ہے اس لئے میں مومن ہوں۔زید اگر کسی وقت بکر کو کافر کہے تو وہ کافر ہوگیا کیونکہ اس کے ایمان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں بلکہ زید کا فتوی ہے لیکن اگر کسی شخص کو ایمان خدا سے حاصل ہوا ہو اور اس حقیقت کے بعد حاصل ہوا ہو کہ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی (النجم : ۳۳) جس شخص کو خدا تعالیٰ نے مومن کہا ہے خدا کا کوئی بندہ اگر اُسے ہزار دفعہ کا فر کہے تو وہ کا فرنہیں بن جاتا کیونکہ اس نے اپنا ایمان انسان کے فتوے سے حاصل نہیں کیا۔نہ کسی ”سیاسی اقتدار کی سند سے۔b حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا یہ واقعہ بڑا اہم، بڑا عجیب، بڑا دلچسپ، بڑا پیارا اور بڑی بنیادی حیثیت کا حامل ہے اور وہ یہ کہ ابھی آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ملا تھا کہ