خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 92

خطبات ناصر جلد پنجم ۹۲ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء ایک عام انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام، دوسرے آسمان پر حضرت عیسی اور حضرت یحی علیہما السلام ، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور اس کے بھی اوپر مقام محمدیت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے ذو العرش کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں، یہ شرف آپ کے مقام کے لحاظ سے اور اس محبت کی وجہ سے ہے جو آپ کو اپنے خدا سے تھی اور اس پیار کی وجہ سے جس سے آپ کو نوازا گیا تھا۔یہ ہے وہ مقام ختم نبوت جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا۔اب اہل زمین جب اس تصویر میں زمین سے آسمانوں کی طرف دیکھیں گے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک ایک نبی (اور ایک آسمان پر دونبیوں) کا ذکر آیا ہے وہ محض نبیوں کے گروہ کی علامت کے طور پر ہے کیونکہ اگر واقع میں ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبر دنیا کی طرف آئے تو پھر تو پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بہت سے اور انبیاء بھی ہوں گے۔اسی طرح دوسرے حتی کہ ساتویں آسمان پر بھی بہت سارے انبیاء ہوں گے۔تاہم ساتویں آسمان تک پہنچ کر یہ سارے انبیاء ختم ہو جائیں گے۔اس کے بعد صرف ایک وجود ہوگا۔وہ اپنے رب سے اتنا پیوست اور ایک جان ہوگا کہ اس کا آنا خدا کا آنا اور اس کا کلام کرنا خدا کا کلام کرنا اور اس کی حرکات خدا کی حرکات متصور ہوں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا جنگ بدر کے موقع پر کنکریوں کی جو مٹھی پھینکی گئی تھی وہ دعاؤں کے نتیجہ میں نہیں بلکہ آپ کے اس قرب الہی کے نتیجہ میں تھی اور آپ کے صفات باری کے مظہر اتم ہونے کی وجہ سے تھی۔یہ آپ کے بلند مقام کا کرشمہ تھا کہ وہ کفار کی آنکھوں میں پڑی اور اُن کی تباہی کا باعث بن گئی۔سردارانِ مکہ میدانِ جنگ میں اپنی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے یہ ایک مستقل اور لمبا مضمون ہے۔اس وقت اس کے بیان کا موقع نہیں۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ یہ مقام یعنی عرشِ ربّ کریم پر مقام محمد یت یا مقام ختم المرسلین یا مقام خاتم النبین اس تصویر میں اور حقیقتاً بھی اتنا اعلیٰ اور ارفع مقام ہے کہ وہاں تک کوئی اور انسان