خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء ملے گا تاہم یہ کسی فرد کا انعام نہیں ہوگا بلکہ اُس محلہ کو اپنی اجتماعی زندگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ملے گا۔میں اس موقع پر اُن لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے بھیڑ بکریاں پالی ہوئی ہیں اور وہ اپنے بھائیوں کے لئے گوشت مہیا کرتے ہیں۔اُن کے لئے بھی غالباً اعلان ہو چکا ہے۔ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اگر وہ گوشت دیں لیکن درختوں کے ذریعہ جو صحت قائم ہوتی ہے۔اُسے قائم رکھنے میں مدد نہ دیں تو ربوہ کا مکین کمزور ہو جائے گا۔اس صورت میں اگر وہ گوشت کھائے گا جو انہوں نے بازار میں بیچا اور اس نے خریدا تو اس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا۔اس لئے کسی بھیڑ بکری کے مالک کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ شجر کاری کی اس مہم میں روک بنے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا۔جب میں کالج کا پرنسپل تھا اور نیا نیا کا لج یہاں آیا تھا تو ایک دفعہ ایک آوارہ بکرا ہمارے اڑھائی تین سو روپے کے پودے کھا گیا جو گملوں میں تھے اور کالج کے احاطہ میں لگائے جانیوالے تھے میں نے چوکیدار سے کہا کہ تم ذمہ دار ہو یا تم پیسے دو یاوہ بکرا دوجس نے پودے کھائے ہیں۔اگلے دن وہ بکرا پھر آ گیا۔چوکیدار نے پکڑ لیا۔چونکہ وہ آوارہ اور لاوارث تھا اس لئے میں نے چھری منگوائی اور اس کو ذبح کر دیا۔ایک مہینے تک وہ بکرا ہمارے خیال میں لاوارث رہا۔میں نے سمجھا شاید باہر سے آیا تھا اور آوارہ پھر رہا تھا ( اُن دنوں ہمارے اس علاقہ میں سیلاب بھی آیا ہوا تھا مگر ایک مہینے کے بعد ربوہ کے ایک صاحب آگئے اور کہنے لگے میرا بکرا یہاں آیا تھا۔میں نے کہا آیا تھا کہنے لگے پھر وہ مجھے دے دیں۔میں نے کہا۔کہاں سے دوں وہ تو آوارہ سمجھا گیا اور ذبح کیا جا چکا ہے پہلے تو وہ سمجھے نہیں لیکن میں نے جب اسے بتایا کہ میں سنجیدگی سے باتیں کر رہا ہوں تو وہ مجھے کہنے لگا آپ کو کیا حق تھا کہ میرا بکرا ذبح کریں۔میں نے کہا ذبح تو آوارہ سمجھ کر کیا گیا تھا مگر میں مانتا ہوں کہ مجھے کوئی حق نہیں تھا کہ تمہارا بکرا ذبح کروں۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں اور تم یہ تسلیم کرو کہ تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ اپنے بکرے کو آوارہ چھوڑ دو اور کالج کا اڑھائی تین سو روپے کا نقصان کرواؤ۔میں تو جھگڑانہیں کرتا عاجز بندہ ہوں تم جس کو مرضی ثالث بنا کر لے آؤ۔لیکن احتیاطاً کچھ روپے ساتھ لے آنا اگر 100